ایچ ون بی ریموٹ ورک پر امریکی کمپنیوں کو ٹیکس خدشات
امریکہ کی ایچ ون بی ویزا پالیسی میں سختی اور سوشل میڈیا جانچ کے نئے طریقۂ کار کے بعد ہزاروں پیشہ ور افراد بھارت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ویزا اسٹیمپنگ کے انٹرویوز میں طویل تاخیر کے باعث متعدد شیڈول 2026 اور 2027 تک چلے گئے ہیں۔ اس صورتحال میں کئی بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے باصلاحیت ملازمین کو برقرار رکھنے کے لیے ریموٹ ورک کی اجازت دی ہے۔
ٹیکس ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ بھارت سے طویل مدت تک کام کرنے سے امریکی کمپنیوں کے لیے مستقل کاروباری موجودگی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ بھارتی ٹیکس قوانین کے تحت ایسی صورت میں کمپنیوں پر کارپوریٹ انکم ٹیکس، قانونی فائلنگ اور دیگر تعمیلی ذمہ داریاں عائد ہو سکتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت میں ہونے والے کام سے حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکس دینا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق خطرہ اس وقت بڑھ جاتا ہے جب ملازمین آمدنی پیدا کرنے والے کام، انتظامی فیصلے یا گاہکوں سے براہِ راست رابطہ جیسے بنیادی کاروباری امور انجام دیں۔ اگرچہ انتظامات عارضی ہوں، مگر طویل ہونے پر ٹیکس حکام کی توجہ حاصل کر سکتے ہیں۔
قانونی مشیروں کا کہنا ہے کہ بھارت-امریکہ دوہرے ٹیکس سے بچاؤ کے معاہدے کے تحت کسی غیر ملکی ادارے کو اس وقت قابلِ ٹیکس سمجھا جاتا ہے جب اس کی سرگرمیاں بھارت میں باقاعدہ شکل اختیار کر لیں۔ ریموٹ ورک کے مبہم اصولوں نے کمپنیوں کے لیے غیر یقینی صورتحال بڑھا دی ہے۔
کچھ ادارے متاثرہ ملازمین کو بھارتی ذیلی کمپنیوں میں منتقل کرنے، کردار محدود کرنے یا تنظیمِ نو پر غور کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ معاملہ عالمی افرادی قوت، امیگریشن سختی اور ہائبرڈ ورک کلچر کے دور میں کمپنیوں کے لیے ایک بڑا اسٹریٹجک چیلنج بن چکا ہے۔



