امریکہ اور ایران میں دو ہفتوں کی جنگ بندی، آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں دونوں ممالک نے دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دی گئی سخت دھمکیوں سے پیچھے ہٹتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کو محفوظ طریقے سے کھول دیتا ہے تو امریکہ حملے روک دے گا۔
ایران نے بھی اس پیشکش کو قبول کرتے ہوئے مشروط طور پر آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
امریکہ نے واضح کیا کہ وہ ایران کے پلوں، بجلی گھروں اور دیگر شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کرے گا۔ یہ فیصلہ ایران کی جانب سے پیش کیے گئے دس نکاتی امن منصوبے کے بعد کیا گیا، جسے قابل عمل قرار دیا گیا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان مزید مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں جمعہ کو اہم ملاقات طے پائی ہے، جہاں طویل مدتی امن پر بات چیت ہوگی۔
اگرچہ سفارتی کوششیں جاری ہیں، مگر زمینی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ خلیجی ممالک میں میزائل حملوں کے الرٹ جاری رہے جبکہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کی خبریں بھی سامنے آئیں، حالانکہ امریکہ نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل بھی جنگ بندی پر رضامند ہو چکا ہے۔
ایران نے مزید شرائط بھی رکھی ہیں جن میں امریکی فوج کا انخلا، پابندیوں کا خاتمہ اور منجمد اثاثوں کی واپسی شامل ہیں۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اس عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کو اسلام آباد میں مذاکرات کی دعوت دی ہے اور خطے میں پائیدار امن کی امید ظاہر کی ہے۔



