ایران میں امریکی خفیہ ریسکیو آپریشن، کشیدگی مزید بڑھ گئی
ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکہ نے اپنے گرنے والے جنگی طیارے کے عملے کو بچانے کے لیے خفیہ فوجی ریسکیو آپریشن انجام دیا۔ اس کارروائی میں خصوصی دستے، درجنوں طیارے اور سینکڑوں اہلکار شامل تھے۔
اطلاعات کے مطابق یہ آپریشن اس وقت شروع کیا گیا جب ایک جنگی طیارہ ایران میں گر کر تباہ ہوا۔ اس کے بعد فوری طور پر پائلٹ اور دیگر عملے کو نکالنے کے لیے کارروائی کی گئی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن انتہائی خطرناک حالات میں کیا گیا اور اس دوران شدید فائرنگ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
ریسکیو کے دوران تین امریکی اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ ایک اہلکار شدید زخمی ہونے کے باوجود اپنی لوکیشن فراہم کرنے میں کامیاب رہا، جس سے اس کی جان بچائی جا سکی۔
ادھر اس تنازع کے اثرات دیگر علاقوں تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ غزہ میں ایک پناہ گاہ پر حملے اور بچوں کے اغوا کی اطلاعات نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال صرف ایک فوجی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، عالمی منڈیوں میں بے یقینی اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اس بات کا ثبوت ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں فوجی کارروائی اور سفارتکاری دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں، اور اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو یہ تنازع ایک بڑے بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔


