اسلام آباد میں طویل مذاکرات ناکام، امریکہ اور ایران میں معاہدہ نہ ہو سکا
طویل مذاکرات کے باوجود کوئی معاہدہ نہ ہو سکا، اہم اختلافات برقرار
اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات ناکام ہو گئے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امیدوں کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔ تقریباً چودہ گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود دونوں ممالک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے تصدیق کی کہ کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا اور امریکی وفد واپس جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے امریکہ کی اہم شرائط، خاص طور پر جوہری پروگرام سے دستبرداری کو قبول نہیں کیا۔
دوسری جانب ایران نے موقف اختیار کیا کہ امریکہ کے ضرورت سے زیادہ مطالبات مذاکرات کی ناکامی کا سبب بنے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق واشنگٹن ایسے مطالبات کر رہا تھا جو جنگ کے دوران بھی حاصل نہ کر سکا۔
مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز کا تنازعہ، جوہری حقوق اور علاقائی سلامتی اہم رکاوٹیں بنے رہے۔ اس کے ساتھ ہی لبنان میں جاری جھڑپوں نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
آبنائے ہرمز میں صورتحال انتہائی سنگین ہے جہاں جہازوں کی آمد و رفت تقریباً معطل ہو چکی ہے اور عالمی تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی فوجی نقل و حرکت کا سخت جواب دیا جائے گا۔
ادھر لبنان میں بھی فضائی حملے اور راکٹ فائرنگ جاری ہے، جس سے خطے میں جنگ کا دائرہ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
اقوام متحدہ نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ انسانی بحران بڑھ رہا ہے اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔



