بین الاقوامیعرب دنیا

۱۷۶ طیاروں کا امریکی آپریشن، ایف-۱۵ ای عملے کی بازیابی

ایران میں گرنے والے امریکی جنگی طیارے کے عملے کو بچانے کے لیے امریکہ نے ایک انتہائی خطرناک اور خفیہ فوجی آپریشن انجام دیا، جس میں تقریباً ۱۷۶ طیارے اور سینکڑوں اہلکار شریک ہوئے۔ اس کارروائی کو ماہرین نے حالیہ برسوں کا سب سے پیچیدہ ریسکیو مشن قرار دیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق، یہ آپریشن تقریباً دو دن جاری رہا، جس میں جدید خفیہ ٹیکنالوجی اور دھوکہ دہی کی حکمت عملی استعمال کی گئی تاکہ ایرانی افواج کو گمراہ کیا جا سکے۔ ابتدائی طور پر گرنے والے طیارے کے پائلٹ کو چند گھنٹوں میں بحفاظت نکال لیا گیا۔

دوسرے اہلکار، جو شدید زخمی تھے، نے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں خود کو چھپاتے ہوئے ایک جدید سگنل ڈیوائس کے ذریعے اپنی موجودگی ظاہر کی۔ امریکی انٹیلیجنس نے جدید نگرانی کے ذریعے اس کا سراغ لگایا، جسے تلاش کرنا ریگستان میں سوئی ڈھونڈنے کے مترادف قرار دیا گیا۔

ریسکیو کے لیے ہیلی کاپٹرز، جنگی طیارے اور ڈرونز کو ایرانی فضائی حدود میں بھیجا گیا، جہاں انہیں شدید دشمن فائرنگ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اس دوران کئی طیاروں کو نقصان بھی پہنچا۔

آپریشن کے دوران دھوکہ دہی کے حربے اپنائے گئے، جن میں متعدد جعلی لینڈنگ مقامات شامل تھے، تاکہ اصل مقام کو خفیہ رکھا جا سکے۔ آخرکار زخمی اہلکار کو کامیابی سے نکال لیا گیا۔

تاہم، واپسی کے دوران کچھ بڑے طیارے وزن اور ریتلی زمین کے باعث اڑان بھرنے میں ناکام رہے، جس کے بعد انہیں تباہ کر دیا گیا تاکہ وہ دشمن کے ہاتھ نہ لگیں۔ ان طیاروں کی مالیت کروڑوں ڈالر بتائی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ آپریشن نہ صرف امریکی فوجی طاقت بلکہ جدید حکمت عملی اور ٹیکنالوجی کا بھی واضح مظہر ہے، جبکہ اس واقعے نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مزید ہوا دی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button