بین الاقوامیعرب دنیا

ہانگ کانگ کی ہلاکت خیز آگ کیا سستے چینی جال اور بانس کے سہارے ذمہ دار؟

ہانگ کانگ کے ایک رہائشی عمارت میں لگنے والی ہولناک آگ نے کم از کم ۵۵ افراد کی جان لے لی جبکہ سیکڑوں اب بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ اس واقعے نے عمارتوں کی سلامتی اور تعمیراتی معیار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

واقعہ بدھ کی دوپہر پیش آیا جب ایک بلند عمارت، جو بانس اسکیفولڈنگ اور سبز تعمیراتی جال سے ڈھکی ہوئی تھی، دیکھتے ہی دیکھتے شعلوں میں گھِر گئی۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ فائر فائٹرز کو درجنوں افراد کو ۳۱ منزلہ ٹاورز سے نکالنے میں شدید دشواری ہوئی۔

آگ پھیلنے کی اصل وجہ کیا تھی؟

واقعے کے بعد بحث چھڑ گئی کہ آگ کو پھیلانے میں بانس اسکیفولڈنگ نے بڑا کردار ادا کیا یا تعمیر میں استعمال ہونے والے کم معیار، انتہائی قابلِ اشتعال چینی جال اصل مجرم تھے۔

کئی افراد نے دعویٰ کیا کہ بانس اگرچہ مضبوط اور لچکدار ہوتا ہے، مگر خشک موسم میں فوراً بھڑک اٹھتا ہے، اس لیے آگ عمارت کے اوپر کی جانب بہت تیزی سے پھیلی۔

دوسری جانب کچھ مقامی لوگوں نے کہا کہ اصل مسئلہ سستے چینی جال، پلاسٹک شیٹس اور فوم بورڈز تھے جو پوری عمارت کے گرد لپیٹے گئے تھے۔ پولیس نے بھی تعمیراتی کمپنی کے خلاف غفلت اور ناقابلِ قبول مواد کے استعمال پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

ماہرین کے مطابق آگ کے پھیلاؤ کی وجہ ایک نہیں بلکہ کئی عوامل تھے:

  • پلاسٹک اسکیفولڈنگ جال
  • پولی اسٹرین شیٹس
  • بغیر معیار کے حفاظتی پردے
  • بانس اسکیفولڈنگ کی سیدھی عمودی ساخت

ایک آسٹریلوی ماہر نے کہا کہ یہ آگ “متعدد آتش گیر مواد کے مجموعے” کا نتیجہ تھی۔

⚠ ہانگ کانگ میں بانس اسکیفولڈنگ پر سوالات

سوشل میڈیا پر #ہانگ_کانگ_آگ اور #بانس_اسکیفولڈنگ جیسے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرنے لگے۔ کئی صارفین نے مطالبہ کیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہانگ کانگ جدید، کم آتش گیر تعمیراتی نظام اپنائے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button