دنیا کی کھینچ تان میں بھارت نئے تجارتی معاہدے کر رہا ہے جے شنکر
کلکتہ میں آئی آئی ایم کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ وصول کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ موجودہ دور میں عالمی سیاست اس انداز میں بدل چکی ہے کہ اب سیاسی فیصلے، معاشی مفادات پر حاوی ہوتے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا دو بڑی طاقتوں امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ایک ایسی صورتحال میں داخل ہو چکی ہے جہاں زیادہ تر ممالک دو طرفہ توازن اختیار کر رہے ہیں۔ کوئی بھی ملک سخت فیصلے کرنے سے بچ رہا ہے، جب تک کہ اس سے انہیں براہِ راست فائدہ نہ ہو۔
جے شنکر کے مطابق امریکہ اب عالمی نظام کا روایتی ضامن نہیں رہا اور اب وہ عالمی سطح پر نئے اور سخت اصول بنا رہا ہے۔ دوسری جانب چین پہلے ہی اپنے مخصوص انداز میں چلتا رہا ہے، مگر اب اس کی جارحانہ سفارت کاری مزید نمایاں ہو رہی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس غیر یقینی ماحول میں یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ اپنی حکمتِ عملی نئے سرے سے ترتیب دے رہے ہیں۔ افریقہ کی ترقی کی صلاحیت زیادہ نمایاں ہو رہی ہے جبکہ لاطینی امریکا بھی نئی معاشی اہمیت اختیار کر رہا ہے۔
جے شنکر نے کہا کہ عالمی سپلائی چین خطرات سے دوچار ہے، کیونکہ چین اب دنیا کی ایک تہائی پیداوار کا مرکز بن چکا ہے۔ اس کے ساتھ جنگیں، موسمیاتی تبدیلیاں، توانائی کے نئے رجحانات اور پابندیاں عالمی تجارت کے نقشے کو بدل رہے ہیں۔
بھارت کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کو اپنی قومی صلاحیت بڑھانی ہوگی، کمزوریاں کم کرنا ہوں گی اور عالمی سطح پر اثر و رسوخ بڑھانا ہوگا۔ اسی لیے بھارت نئے تجارتی معاہدے کر رہا ہے اور علاقائی رابطہ کاری بڑھانے پر زور دے رہا ہے۔



