بین الاقوامیعرب دنیا

زیلنسکی کا بڑا بیان جنگ کے خاتمے کا معاہدہ بس دس فیصد دور

یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا معاہدہ اب صرف دس فیصد دور رہ گیا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہی باقی حصہ سب سے زیادہ حساس اور فیصلہ کن ہے۔ ان کے مطابق امن ضرور چاہیے، لیکن کسی بھی قیمت پر نہیں۔

صدر زیلنسکی نے نئے سال کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ یوکرین جنگ ختم کرنا چاہتا ہے، مگر ایسا امن قبول نہیں کیا جائے گا جس میں یوکرین کی سلامتی کو خطرہ ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی معاہدے میں مضبوط سکیورٹی ضمانتیں شامل ہونی چاہئیں تاکہ مستقبل میں روس دوبارہ حملہ نہ کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کا نوے فیصد حصہ تیار ہے، لیکن باقی دس فیصد یوکرین، یورپ اور امن کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔ دوسری جانب روس اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ اسے یوکرین کے مشرقی علاقوں پر مکمل کنٹرول دیا جائے، جسے یوکرین نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

ادھر امریکہ کی قیادت میں سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں اور یوکرین و یورپی حکام کے درمیان مسلسل رابطے جاری ہیں۔ یہ جنگ اب اپنے پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر اور کئی شہر تباہ ہو چکے ہیں۔

دوسری طرف روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے بھی نئے سال کے خطاب میں اپنی فوج کو ہیرو قرار دیتے ہوئے فتح پر یقین رکھنے کی اپیل کی۔ روس نے حالیہ دنوں میں دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین نے ڈرون حملے کیے، جس کے بعد ماسکو نے مذاکرات میں سخت موقف اپنانے کا اعلان کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بات چیت آگے بڑھی ہے، لیکن علاقائی تنازع اور باہمی عدم اعتماد اب بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button