یوکرین میں تبدیلی زیلنسکی کا نیا چیف آف اسٹاف مقرر
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ملک کی فوجی قیادت میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ جنرل کیریلو بودانوف کو اپنا نیا چیف آف اسٹاف مقرر کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس۔یوکرین جنگ کو ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔
صدر زیلنسکی نے کہا کہ موجودہ حالات میں سلامتی، دفاعی تیاری اور امن مذاکرات پر مکمل توجہ ناگزیر ہے اور صدر کے دفتر کا کردار ان تمام امور میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے سابق چیف آف اسٹاف آندری یرماک کو بدعنوانی سے متعلق تحقیقات کے آغاز کے بعد عہدے سے ہٹا دیا تھا۔
جنرل بودانوف نے اس تقرری کو اعزاز اور بھاری ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ یوکرین کی اسٹریٹجک سلامتی کے لیے ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ وہ گزشتہ کئی برسوں سے فوجی انٹیلی جنس ادارے کی قیادت کر رہے تھے اور جنگ کے دوران ایک نمایاں چہرہ بن کر ابھرے۔
صدر زیلنسکی نے اپنی ٹیم میں مزید رد و بدل کا اعلان کرتے ہوئے ڈیجیٹل تبدیلی کے وزیر میخائیلو فیڈوروف کو نیا وزیرِ دفاع نامزد کرنے کی بھی تجویز دی۔ فیڈوروف کو ڈرون ٹیکنالوجی اور ای-گورننس میں اہم کردار کے لیے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے ڈینس شمیہال کی جگہ لی، جن کے لیے صدر نے آئندہ حکومتی کردار کا عندیہ دیا۔
دفاعی حکام کے مطابق دسمبر میں یومیہ ایک ہزار سے زائد انٹرسیپٹر ڈرونز کی تیاری کا ہدف حاصل کیا گیا، جو یوکرین کی دفاعی صلاحیت میں نمایاں پیش رفت ہے۔



