مائیکروسافٹ سمیت آٹھ آئی ٹی کمپنیوں کے لیے گرین کارڈ کا راستہ معطل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مائیکروسافٹ سمیت آٹھ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایسے پروگرام کو معطل کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت غیر ملکی ملازمین گرین کارڈ حاصل کرنے کی درخواست دے سکتے تھے۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات، ۸ اکتوبر کو اس فیصلے کا اعلان کیا، جو غیر ملکی طلبہ اور کارکنوں کو امریکہ آنے کے مواقع فراہم کرنے والے اداروں کے خلاف انتظامیہ کے تازہ اقدامات میں شامل ہے۔
اس فیصلے سے متاثر ہونے والی کمپنیوں میں مائیکروسافٹ، ایڈوب، کاگنیزنٹ، انفوسس، ٹاٹا، وِپرو، ایچ سی ایل اور کیپ جیمینی شامل ہیں۔
وینس نے الزام عائد کیا کہ بعض امریکی کمپنیاں ایچ ون بی ویزا پروگرام کا غلط استعمال کرتے ہوئے امریکی کارکنوں کی جگہ غیر ملکی ملازمین کو بھرتی کرتی ہیں۔ ان کے مطابق متعلقہ پروگرام کے تحت کمپنیوں کو پہلے امریکہ میں ملازمتوں کے اشتہارات دینے ہوتے ہیں اور پھر محکمہ محنت کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ مطلوبہ عہدوں کے لیے امریکی کارکن دستیاب نہیں ہیں۔
وینس نے دعویٰ کیا کہ مائیکروسافٹ نے گزشتہ سال تقریباً چھ ہزار امریکی ملازمین کو ملازمت سے فارغ کیا، جبکہ اسی دوران کمپنی نے چھ ہزار تین سو ایچ ون بی ویزے اور تقریباً تین ہزار گرین کارڈ حاصل کیے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی کو امریکی کارکنوں کی بھرتی کو ترجیح دینی چاہیے۔
تاہم مائیکروسافٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ مالی سال میں ایچ ون بی ویزوں کے لیے دی گئی تقریباً چھ ہزار درخواستوں میں سے ۸۰ فیصد موجودہ ملازمین کے ویزوں کی مدت بڑھانے یا ان کی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے تھیں۔ کمپنی کے مطابق نئی بھرتیوں سے متعلق درخواستیں امریکہ میں پہلے سے قانونی طور پر موجود افراد کے لیے تھیں، نہ کہ نئے آنے والے کارکنوں کے لیے۔
بائیڈن انتظامیہ کے دور میں امریکی شہریت و امیگریشن خدمات کے سابق مشیر ڈگ رینڈ نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گرین کارڈ ملازمین کو اپنے آجر پر امیگریشن حیثیت کے لیے انحصار سے آزاد کرتا ہے اور انہیں ملازمت تبدیل کرنے کی زیادہ آزادی دیتا ہے۔
ایچ ون بی ویزا پروگرام طویل عرصے سے سیاسی بحث کا موضوع رہا ہے۔ اس ویزے کا مقصد ایسے اعلیٰ مہارت والے عہدوں کے لیے غیر ملکی کارکنوں کو لانا ہے جن کے لیے امریکی امیدوار دستیاب نہ ہوں۔ ٹیکنالوجی کمپنیاں اس پروگرام کی بڑی مستفید ہونے والی کمپنیوں میں شامل ہیں، جبکہ منظور شدہ ویزوں کا تقریباً تین چوتھائی حصہ بھارتی کارکنوں کو ملتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اس سے قبل ایچ ون بی ویزوں کی فیس میں اضافے کی تجاویز بھی پیش کی تھیں، تاہم ان اقدامات کو قانونی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ تازہ فیصلے کے بعد غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی اور امریکی کمپنیوں کی امیگریشن پالیسیوں پر بحث مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔



