جورالہ کے پانی پر کسانوں کا احتجاج رنگ لایا، نہروں میں پانی چھوڑ دیا گیا
جورالہ منصوبے سے آبپاشی پانی کی فراہمی کے مطالبے پر گزشتہ کئی دنوں سے جاری کسانوں کے احتجاج کے بعد تلنگانہ حکومت نے جورالہ کی دائیں نہر میں پانی چھوڑ دیا ہے۔ حکام کے مطابق بالائی علاقوں میں بارش کے بعد منصوبے میں تقریباً ۲۶۸۷ کیوسک پانی کی آمد ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد بدھ کی صبح دائیں نہر میں پانی چھوڑا گیا۔
کسانوں کا کئی روز سے احتجاج
محبوب نگر کے سابقہ اضلاع کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے کسان کھڑی فصلوں کے لیے آبپاشی پانی جاری کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔ احتجاج کے دوران کسانوں اور پولیس کے درمیان کشیدگی بھی پیدا ہوئی، جبکہ بعض رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا اور کچھ کو گھروں میں نظر بند رکھا گیا۔
بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ نے بھی جورالہ سے پانی جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کو احتجاج میں شدت لانے کا انتباہ دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کی عدم فراہمی سے کھڑی فصلیں متاثر ہورہی ہیں۔
کرناٹک سے پانی کی درخواست
دوسری جانب تلنگانہ کے وزرا اور ارکان اسمبلی نے منگل کی رات کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار سے ملاقات کی اور جورالہ سمیت محبوب نگر کے آبپاشی علاقوں کے لیے کرشنا کا پانی جاری کرنے کی درخواست کی۔
تلنگانہ وفد نے کرناٹک سے روزانہ ۵۰۰۰ کیوسک پانی، مسلسل ۳۰ دن تک جاری کرنے کی درخواست کی۔ حکام کے مطابق اس سے جورالہ، بھیما، نیٹم پیڈو اور کوئل ساگر منصوبوں کے تحت تقریباً ۵.۵ لاکھ ایکڑ رقبے کی فصلوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ نے درخواست پر مثبت ردعمل ظاہر کیا۔
پانی کی دستیابی پر سیاسی کشمکش
حالیہ پیش رفت کے بعد جورالہ سے آبپاشی پانی کی فراہمی شروع ہوگئی ہے، جبکہ مزید پانی کی دستیابی کا انحصار بالائی علاقوں سے آمد اور کرناٹک سے پانی چھوڑنے پر رہے گا۔



