امریکہ کا بیس سالہ اور ایران کا پانچ سالہ مؤقف، مذاکرات میں رکاوٹ
امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات جوہری پروگرام کے معاملے پر اختلافات کے باعث ناکام ہو گئے ہیں، جس سے خطے میں امن کی امیدوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکہ نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ یورینیم افزودگی کو بیس سال کیلئے مکمل طور پر روک دے، جبکہ ایران نے اس کے جواب میں صرف پانچ سال کی محدود معطلی کی پیشکش کی۔ یہی بڑا فرق دونوں ممالک کے درمیان ڈیڈلاک کا سبب بن گیا۔
امریکہ نے مزید یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایران اپنا زیادہ افزودہ یورینیم مکمل طور پر ختم کرے، جبکہ ایران نے اس کے برعکس نگرانی کے تحت بتدریج کمی کی تجویز دی۔
مذاکرات کے دوران یہ مسئلہ سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوا، جس کے باعث کسی بھی حتمی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہ ہو سکا۔
تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور مستقبل میں کسی درمیانی حل تک پہنچنے کی امید برقرار ہے، جس میں ممکنہ طور پر بارہ سالہ معطلی جیسی تجاویز زیر غور آ سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ تنازع ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کی کمی اور گہرے اختلافات اب بھی موجود ہیں، جو کسی بھی امن معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔



