مل گئی منزل مجھے

شرجیل اور اسلم بچپن کے دوست تھے ایک ہی اسکول میںپڑھتے۔ گھر بھی دونوں کے ایک ہی کالونی میںتھے۔ دونوں ساتھ ساتھ جوانی کی منزلیں طئے کرنے لگے۔ دونوں کے گھر کا ماحول بالکل جدا تھا۔ شرجیل کی امی مذہبی،پردہ دار خاتون تھیں مگر اسلم کے والدین آزاد خیال تھے۔ ان کے گھر کا ماحول کچھ ٹھیک نہیںتھا۔ والد اپنے بزنس کی وجہ سے اکثر شہر سے باہر رہتے۔ والدہ آزاد خیال تھیں۔ وہ بھی اکثر گھر سے باہر ہی مصروف رہتیں۔ بھائی بہنیں سب مغربی تہذیب کے دلدادہ……. بہنیں بھی بے پردہ اور فیشن ایبل۔ مگر سب ہی دل کے بہت مخلص تھے۔ یہی وجہ تھی کہ دونوں دوستوں کا ماحول یکسر مختلف ہونے کے باوجود ان کی دوستی میںکوئی فرق نہیں تھا۔
ان حالات کے پیش نظر شرجیل کی امی بہت فکر مند تھیں اور بیٹے کو مشورہ دینے لگیں۔’’میرا خیال ہے شرجیل تم اسلم سے دوستی میں ذرادوری اختیار کرو تو بہتر رہے گا‘‘۔
’’امی! ایک بہت ہی اہم اور پیچیدہ مسئلہ در پیش ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ معاملے کی اہمیت کو سمجھ کر میری رہنمائی کریں گی‘‘۔ پھر نہ جانے انہیں شرجیل کیا کیا سمجھاتا رہا کہ وہ اک لخت اسے دیکھتیں، پھر مسکراتیں، چونک جاتیں، پھر مان جاتیں۔
دلہن کا کمرہ بہت محنت اور خوبصورتی سے سجایا گیاتھا۔ سجاوٹ میں ماڈرن انداز اپنایا گیا تھا۔ قالین اور صوفوں سے مزین خوشبوؤں میں بسا کمرہ علینہ کی دلچسپی کا مرکز بنا ہوا تھا۔ وہ دلہن تھی۔ شرمائے اندازسے بے نیاز ہر طرف بڑی تنقیدی اور تعریفی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ شرجیل کی پسند اتنی ماڈرن ہوسکتی ہے؟جب وہ مطمئن انداز میں پلٹی تو سامنے شرجیل کھڑے تھے۔ باوقار سنجیدہ سے، مسکراہٹ کے ساتھ وہ اسے ہی دیکھ رہے تھے۔
صبح ناشتہ کی میز پر امی دونوں کی منتظر تھیں۔
’’گڈ مارننگ ماما…‘‘ علینہ نے انگریزی اسٹائل میں کہا۔ ’’گڈ مارننگ… بیٹا!‘‘ انہوں نے خوش دِلی سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ تھی تو وہ بے حد حسین۔ انہوں نے اس کے سراپے پر نظر ڈالی۔ خوبصورت ساڑی بغیر آستین کے بلاؤز کے ساتھ پہن رکھتی تھیں۔ ترشے ہوئے بال شانوں پر لہرارہے تھے۔ پرفیوم میں جیسے نہا کر آئی ہو۔ شرجیل نے بھی یہی سب کچھ محسوس کیا۔ اس کے چہرے سے چٹانوں جیسا عزم جھلک رہا تھا۔
’’لو، بیٹے!‘‘ انہوں نے جیم اور ٹوسٹ کی سینڈوچ بناکر علینہ کو دی۔ ’’او! تھینک یو ماما! ویسے ماما، آپ کی مصروفیت کیا ہوا کرتی ہیں‘‘۔
’’پہلے تو پارٹیز میں جایا کرتی تھیں یا پھر گھر پر ہی پارٹیز ہوا کرتی تھیں۔ اب تم آگئی ہو تو اکیلے پن کا احساس نہیں ہوگا‘‘۔ وہ بھی بڑے نئے انداز میں بات کررہی تھیں۔ علینہ کو دیکھ کر نہیں لگتا تھا کہ وہ ایک دن کی دلہن ہے۔ اسکی باتوں کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ زمانے سے اسی گھر میں رہ رہی ہو۔
شرجیل جب ماں کے کمرے میںآیاتو انہیں فکرمند پایا…‘‘ کیا بات ہے امی! آپ اتنی بے سکونی کیوں محسوس کررہی ہیں‘‘۔ وہ ماں کے قدموں میں ہی بیٹھ گیا۔ ’’مجھ سے یہ ڈھونگ نہیں رچا جائے گا، بیٹا! قدم قدم پر جھوٹ بناوٹ… جس چیز سے مجھے نفرت ہے۔ وہ میں کیسے کرسکتی ہوں۔ شرجیل یہ اداکاری مجھ سے نہیں ہوسکے گی‘‘۔
’’آپ اتنی جلدی ہمت ہار گئیں، امی… گندگی کو صاف کرنے کے لئے ہاتھوں کو آلودہ کرنا ہی پڑتا ہے ناں…‘‘ شرجیل حوصلہ مند اور باہمت لڑکا تھا۔ ’’ٹھیک ہے… بیٹا! یہ ہم دونوں کا امتحان ہے!‘‘
شام میں چائے پیتے ہوئے علینہ سے گپ شپ بھی ہورہی تھی۔ ساس کے ساتھ بے تکلفی سے اندازہ ہی نہ ہورہا تھا کہ وہ اس گھر میں نئی دلہن ہے۔ ’’علینہ! کہاں ہو تم…؟ شرجیل کی آواز سن کر علینہ اُٹھ کھڑی ہوئی۔ ’’آپ آگئے…؟‘‘
’’اپنی آنکھیں بند کرو…‘‘۔ ’’کیوں؟‘‘
’’بس، کہا ناں… بند کرو…‘‘۔
’’لو، بند کیا… ‘‘۔
’’ہاں! اب کھولو…‘‘ علینہ نے دیکھا کہ سامنے بہت ہی خوبصورت کلر کے سوٹ بکھرے پڑے تھے… جن پر انتہائی نازک کام بنا ہوا تھا… ’’کہو، کیسے ہیں؟‘‘ شرجیل مسکراتے ہوئے پوچھنے لگے۔ ’’ہیں تو خوبصورت، لیکن یہ چادریں میں نہیں اوڑھ سکنی‘‘۔ اس نے دو پٹوں کو پھیلاتے ہوئے بیزار کن لہجے میں کہا۔
شرجیل کا خیال تھا کہ وہ اگر علینہ کو راہ راست پر لانے میں کامیاب ہوگئے تو ہوسکتا ہے، اس کا پورا خاندان ہی سدھر جائے۔ اسی عزم کو لے کر پہلے انہوں نے علینہ کی طرح اپنے آپ کو ڈھالا کہیں مخالف ماحول دیکھ کر وہ پریشان نہ ہوجائے… بہت کچھ کررہے تھے وہ اپنی مرضی کے خلاف۔
رات دو بجے اچانک ہی علینہ کی آنکھ کھل گئی… دیکھا تو شرجیل بیڈ پر نہیں تھے۔ وہ آہستہ سے ہال میں نکل آئی… ایک کونے میں جا نماز بچھائے شرجیل اللہ کے حضور گریہ زاری سے اپنے خدا سے قلبی لو لگائے نہایت انکساری سے دعا مانگ رہے تھے۔ ہرجملے میں وہ اپنا نام سن رہی تھی۔ شرجیل کو اپنے لئے دعا کرتے دیکھ کر وہ حیران سی رہ گئی۔ اسے اپنے اندر ایک سکون سا اُترتا محسوس ہوا۔
آج علینہ کی طبیعت کچھ ناساز تھی۔ وہ کافی کمزور لگ رہی تھی۔ بخار تیز ہونے کی وجہ سے اس نے کچھ کھایا پیا بھی نہیں تھا امی نے آج اسے اپنے ہاتھوں سے ہلکی غذا کھلائی پھر دوا دینے کے بعد آہستہ آہستہ اس کو نیند آنے لگی۔ انہوں نے اسے چادر اوڑھائی اور نیچے اپنے کمرے میں آگئیں۔ ظہر کی نماز کے بعد روز کی طرح قرآن کی تلاوت میں مشغول ہوگئیں۔ وہ بہت انہماک سے تلاوت کیا کرتیں۔ انہیں پتہ ہی نہ چلا کہ کب علینہ آئی اور پیچھے بیٹھی قرآن کی آیات سنتی رہی۔ علینہ پر نظر پڑی تو انہوںنے قرآن بند کیا۔
’’اب کیسی ہے بیٹی… تمہاری طبیعت؟‘‘ انہوں نے اس کی حیران نگاہوں کو نظر انداز کرتے ہوئے پوچھنے لگیں۔ ’’کیا سوچ رہی ہو، علینہ‘‘۔ انہوں نے بڑی محبت سے پوچھا۔
’’ماما…‘‘ وہ ان کے سینے سے جالگی۔ ’’کیا ہوا؟ بیٹے…‘‘ وہ ان کے سینے لگی سسکتے ہوئے سوچ رہی تھی۔ کتنی ٹھنڈک تھی یہاں، کتنا سکون، تقدس کی خوشبو، ممتا کی گرمی، اِیمان کی تازگی اور نہ جانے کیا کیا… وہ بے ضبط ہوکر رونے لگی۔ بہت دیر تک وہ یوں ہی روتی رہی۔ جب طوفان تھم چکا، ہر جذبہ آنسوؤں سے دھل کر نکھر گیا۔ دِل کی سیاہی چھٹ چکی… نرم اور زرخیز نمی نے جگہ بنالی۔ تب امی کچھ اس طرح گویا ہوئیں۔
’’بیٹے علینہ! زندگی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ امانت ہے۔ اسے درست طریقے سے گذارنے کے کچھ اُصول ہیں… کچھ ضابطے ہیں۔ اگر ہم ان سب باتوں کو نہ مانیں تو یہ خیانت ہوگی۔ نقصان ہم ہی کو اُٹھانا ہوگا، سزا ہمیں ہی ملے گی… یہ دُنیا اِک حسین دھوکہ ہے۔ چار روزہ ہے۔ دائمی اور ابدی زندگی تو آخرت کی ہے… اِیمان کو تازہ رکھنے پر روح شاداب ہوجاتی ہے… آج تک جو تم نے ہمیں دیکھا، وہ سچ نہیںتھا۔ ہم تمہیں راہِ راست پر لانے کے لئے یہ سب ڈھونگ کررہے تھے۔ اب فیصلہ تم کو کرنا ہے…‘‘۔
جب وہ ان سے الگ ہوئی تو انہوں نے اس کی آنکھوں میں اِنقلاب کے بدلتے رنگ دیکھے۔ شرجیل، علینہ کو آواز دیتا ہوا اُوپر آیاتو وہ دکھائی نہیں دی… شاید واش روم میں ہوگی؟ اس نے سوچا اور میگزین اُٹھالیا… تب ہی چوڑیوں کی کھنک پر نظر اُٹھائی تو کوئی رکوع میںدکھائی دیا… ’’یہ کون محترمہ ہیں؟‘‘ علینہ کو تو کبھی میں نے نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا…‘‘ وہ متعجب تھا۔
’’السلام علیکم…‘‘۔ ’’وعلیکم السلام… ‘‘ وہ حیران رہ گیا۔ ’’کیوں؟ میں نماز نہیں پڑھ سکتی…‘‘۔ اس نے جھک کر ادا سے کہا۔ ’’لیکن‘‘؟وہ اسے غیر یقینی سے دیکھتا رہ گیا۔
کتنی پیاری لگ رہی تھی وہ… چہرے پر فرشتوں جیسا نور چھلک رہا تھا۔ ’’امی! آپ کو پتہ ہے، علینہ نے نماز پڑھنا شروع کردیا ہے۔ وہ کافی بدل رہی ہے؟ ’’ہاں! میں جانتی ہوں… دھیرے دھیرے آجائے گی راہ پر…‘‘۔ ’’ماما! ممی نے ہم سب کو مدعو کیا ہے رات کے کھانے پر… ‘‘ علینہ نے کہا۔
’’ممی سے کہہ دو تکلف نہ کریں…‘‘شرجیل نے درمیان میں ٹوکا۔ ’’کیوں مما! چلیں گے نا ہم سب…‘‘ علینہ کے لہجے سے خوشی چھلک رہی تھی۔ ’’دعوت رد نہیںکرتے علینہ! ہم ضرور جائیں گے…‘‘۔
علینہ تیار ہونے کے لئے اپنے کمرے میں چلی گئی۔ شرجیل کے چہرے سے سچی خوشی چھلک رہی تھی۔ ’’امی! ہماری کوشش اور اللہ کی ہدایت نے آخرکار علینہ کو سیدھی راہ پر لے آئی… اب میں کسی قدر مطمئن ہوں، ورنہ شادی کے وقت میں بہت گھبرایا ہوا تھا… اللہ نے میری دعائیں سن لیں… اب دعاء ہے کہ اس کے گھر والے بھی راہِ راست پر آجائیں…‘‘۔ شرجیل کا لہجہ مطمئن تھا۔
’’اچھا! شرجیل اب تم بھی تیار ہوجاؤ اور میں بھی تیار ہو لوں… علینہ کے تیار ہونے تک ہم سب کو بھی تیار ہوجانا چاہئے‘‘۔ ’’مما! میں بالکل تیار ہوں…‘‘۔ شرجیل کا لایا ہو اپنک سوٹ زیب تن کئے وہ ان کے سامنے کھڑی تھی۔ بڑا سا ڈوپٹا اوڑھے وہ بہت پرکشش لگ رہی تھی۔ آج اس نے سینٹ کا استعمال نہیںکیا تھا۔
شرجیل کی امی نے محبت سے اس کا ماتھا چوم لیا۔ ’’بہت پیاری لگ رہی ہو… علینہ! شلوار سوٹ اور اس بڑے سے ڈوپٹے میں تم کیسا محسوس کررہی ہو…‘‘۔
’’بہت اچھا محسوس کررہی ہوں… مما! مجھے کسی نے احساس ہی نہیں دلایا کہ لڑکیوں کو ایسے ڈریس استعمال کرنا چاہئے۔ میں تو ان بڑے ڈوپٹوں سے پریشان ہوا کرتی تھیں، مگر آج مجھے احساس ہوا کہ کپڑے ہمیں ہمیشہ اپنے سر اپے کو ڈھانکنے کیلئے پہننا چاہئے۔ جب یہ بات سمجھ میںآگئی تو اب مجھے کوئی پریشانی نہیں۔ بہت بہت شکریہ… مما! آج میں نے بھی ایک فیصلہ کیا ہے‘‘۔ ’’کیسا فیصلہ…؟‘‘ بیک وقت دونوں ماں بیٹے نے پوچھا۔ ’’اب میں اپنی ممی اور بہنوں کو بھی سمجھاؤں گی۔ یقینا وہ سب مجھے سمجھیں گے… میری بات مانیں گے…‘‘۔ اس کے چہرے پر انوکھا عزم تھا۔
شرجیل اور ممی کے چہرے پر بھی آسودہ سی مسکراہٹ سج گئی۔ وہ تینوں گاڑی میں بیٹھ گئے تھے… اور علینہ ایک نئے عزم کے ساتھ اپنے میکہ میں داخل ہورہی تھی… قدرت نے عورت کو جانے کس مٹی سے بنایا ہے؟ کسی بات کا عزم کرلیتی ہے تو پھر پیچھے نہیں پلٹتی۔
خیر النساء



