تلنگانہحیدرآبادعلاقائی خبریںقومی

تلنگانہ میں بارشوں سے موسمی خسارہ کم، کئی اضلاع میں ریڈ الرٹ

ریاست تلنگانہ میں حالیہ دنوں ہونے والی وسیع پیمانے کی بارشوں نے طویل عرصے سے جاری بارش کے خسارے میں نمایاں کمی کر دی ہے، جس سے کسانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تاہم کئی اضلاع میں شدید بارش کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے ہیں، جبکہ حیدرآباد میں سڑکوں پر پانی جمع ہونے اور ٹریفک جام کے مسائل بھی سامنے آئے ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق تقریباً پندرہ روز قبل ریاست میں بارش کا خسارہ تینتیس فیصد تھا، جو اب کم ہو کر دس فیصد رہ گیا ہے۔ اس کے باوجود ریاست کے تینتیس میں سے تیرہ اضلاع ایسے ہیں جہاں معمول سے بیس فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ سب سے زیادہ خسارہ یادادری بھونگیر ضلع میں دیکھا گیا، جہاں بارش کی کمی پینسٹھ فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ حیدرآباد میں بھی اب تک بارش معمول سے کم ریکارڈ کی گئی ہے۔

تلنگانہ ترقیاتی منصوبہ بندی سوسائٹی کے اعداد و شمار کے مطابق جگتیال ضلع کے گلاکوٹا میں دوپہر تک ستر اعشاریہ پانچ ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ کومرم بھیم آصف آباد ضلع کے سرپور میں چھیاسٹھ اعشاریہ چھ ملی میٹر بارش ہوئی۔

شدید بارش کے باعث ریاست کے مختلف علاقوں میں ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہوگئی، جس سے کئی مقامات پر آمد و رفت متاثر ہوئی۔ دوسری جانب حیدرآباد میں گزشتہ شب ہونے والی بارش نے متعدد علاقوں میں پانی جمع ہونے اور ٹریفک جام کی صورتحال پیدا کر دی۔

محکمہ موسمیات نے عادل آباد، کومرم بھیم آصف آباد، منچریال، نرمل اور جگتیال اضلاع کے لیے ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اکتیس جولائی کی صبح تک بعض مقامات پر انتہائی شدید بارش، تیز ہوائیں، گرج چمک اور آسمانی بجلی گرنے کا امکان ہے۔

حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، نشیبی علاقوں میں جانے سے بچیں اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ریڈ الرٹ کا مطلب چوبیس گھنٹوں میں دو سو چار ملی میٹر سے زیادہ بارش کا امکان ہوتا ہے، جس سے سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button