تلنگانہعلاقائی خبریںقومی

تلنگانہ میں ڈرائیونگ ٹیسٹ اب مصنوعی ذہانت سے، 6 مراکز پر نئی ٹیکنالوجی کی تیاری

تلنگانہ میں ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے ڈرائیونگ ٹیسٹ کا طریقہ کار جلد تبدیل ہوسکتا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ نے چھ ڈرائیونگ ٹیسٹ مراکز پر مصنوعی ذہانت پر مبنی ویڈیو تجزیاتی نظام متعارف کرانے کے امکانات کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ٹیسٹ کے عمل کو زیادہ شفاف اور یکساں بنانا اور انسانی مداخلت کے امکانات کو کم کرنا ہے۔

پہلے مرحلے میں 6 مراکز شامل

محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق منصوبے کے پہلے مرحلے میں حیدرآباد، ملکاجگیری اور سائبرآباد کے علاقوں میں قائم پانچ ڈرائیونگ ٹیسٹ مراکز کے علاوہ کریم نگر آر ٹی او کے ڈرائیونگ ٹیسٹ ٹریک کو شامل کیا جائے گا۔

منصوبے کی تیاری کے سلسلے میں محکمہ ٹرانسپورٹ اور حیدرآباد میٹروپولیٹن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے عہدیداروں نے حال ہی میں کنڈاپور اور ناگول کے ڈرائیونگ ٹیسٹ ٹریکس کا معائنہ کیا۔ ٹیموں نے وہاں موجود بنیادی سہولیات کا جائزہ لینے کے ساتھ نئی ٹیکنالوجی نصب کرنے کے لیے درکار انتظامات کی بھی نشاندہی کی۔

دہلی، اتر پردیش اور اڈیشہ کے نظام کا جائزہ

یہ منصوبہ دیگر ریاستوں میں خودکار ڈرائیونگ ٹیسٹ کے نظام کے مطالعے کے بعد سامنے آیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی ایک کمیٹی نے حال ہی میں دہلی، اتر پردیش اور اڈیشہ کا دورہ کرکے وہاں استعمال ہونے والے خودکار ڈرائیونگ ٹیسٹ نظام کا جائزہ لیا تھا۔

کمیٹی نے اپنے مشاہدات اور سفارشات پر مشتمل رپورٹ تلنگانہ کے محکمہ ٹرانسپورٹ کو پیش کردی ہے۔ اسی رپورٹ کی بنیاد پر منتخب ڈرائیونگ ٹیسٹ مراکز کو جدید بنانے اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی کا نظام متعارف کرانے کی تیاری کی جارہی ہے۔

ڈرائیونگ ٹیسٹ میں کیا بدلے گا؟

مجوزہ ٹیکنالوجی کے ذریعے درخواست گزاروں کی ڈرائیونگ کارکردگی کا زیادہ معیاری انداز میں جائزہ لینے میں مدد ملے گی۔ اس نظام کا مقصد یہ جانچنا ہوگا کہ امیدوار گاڑی چلانے اور ٹریفک میں محفوظ انداز سے سفر کرنے کے لیے مطلوبہ مہارت رکھتا ہے یا نہیں۔

حکام کے مطابق نئی ٹیکنالوجی سے ڈرائیونگ ٹیسٹ کے نتائج کو زیادہ یکساں بنانے، سڑکوں کی حفاظت سے متعلق اقدامات مضبوط کرنے اور جانچ کے عمل کو انسانی مداخلت پر کم انحصار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ اقدام تلنگانہ میں ڈرائیونگ لائسنس کے ٹیسٹ کے عمل کو جدید بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button