اجین میں شاہی مسجد کے خلاف کارروائی پر احتجاج، آنسو گیس کے بعد کشیدگی
مدھیہ پردیش کے اجین میں سڑک کشادگی کے لیے شاہی مسجد کے ایک حصے کو ہٹانے کے معاملے پر پیر کو کشیدگی پیدا ہوگئی۔ مسجد کے قریب جمع لوگوں اور پولیس کے درمیان جھڑپ کے بعد پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے۔ یہ کارروائی ۲۰۲۸ کے سنگھستھ کمبھ کی تیاریوں کے لیے سڑک کو چوڑا کرنے کے منصوبے کے تحت کی جارہی ہے۔
مسجد کے قریب بڑی تعداد میں لوگ جمع
رپورٹس کے مطابق جمعہ ۲۵ ستمبر سے مسجد کے قریب احتجاج اور نگرانی کا سلسلہ جاری تھا۔ اتوار کی رات بھی بڑی تعداد میں لوگ وہاں موجود رہے اور مسجد کے ممکنہ انہدام کے خلاف احتجاج کرتے رہے۔ انتظامیہ کی جانب سے کارروائی کی تیاری کے درمیان علاقے میں پولیس اور سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔
پیر کی صبح صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب پولیس اور احتجاج میں شامل افراد کے درمیان تصادم ہوا۔ پولیس پر پتھراؤ کیے جانے کی اطلاعات کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ بعض پولیس اہلکاروں کے معمولی زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔
مسجد کمیٹی نے خود حصہ ہٹانا شروع کیا
انتظامیہ کے مطابق مسجد کے تقریباً ۱۱ فٹ حصے پر سڑک کی مجوزہ حدود آتی ہیں۔ رات کے دوران مسجد کمیٹی اور مقامی نمائندوں کے درمیان بات چیت کے بعد مسجد کے متاثرہ حصے کو خود ہٹانے پر اتفاق کی اطلاع سامنے آئی۔
اس کے بعد مسجد کمیٹی سے وابستہ بعض رضاکاروں نے کارروائی شروع کی اور مسجد کے متاثرہ حصے کو خود منہدم کرنا شروع کردیا۔ اس دوران مسجد کے قریب موجود افراد جذباتی ہوگئے۔
ہائی کورٹ نے درخواستیں مسترد کی تھیں
یہ معاملہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے ۹ ستمبر کے فیصلے کے بعد سامنے آیا۔ عدالت نے اجین میونسپل کارپوریشن کی جانب سے سڑک کشادہ کرنے کے لیے شاہی مسجد کے ایک حصے کو ہٹانے کے خلاف دائر دو درخواستیں مسترد کردی تھیں۔
عدالت کے مطابق متعلقہ سڑک کو ۱۵ میٹر تک چوڑا کرنے کی کارروائی مجوزہ راستے اور آنے والے مذہبی اجتماع کے دوران زائرین کی آمد و رفت اور ٹریفک انتظامات سے متعلق تھی۔ عدالت نے میونسپل کارپوریشن کی کارروائی کو متعلقہ قانونی دفعات کے تحت قرار دیا تھا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق مجوزہ کارروائی سے مسجد کے نماز ہال کے ایک حصے، تقریباً ۱۲۰ فٹ بلند مینار اور مزار چوک شاہی کا کچھ حصہ متاثر ہونا ہے۔
اجین میں صورتحال کے پیش نظر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور انتظامیہ نے علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی اہلکار تعینات کیے ہیں۔



