راہول گاندھی کا امت شاہ سے استعفے کا مطالبہ، یا تو حکم دیا یا پھر نااہل ہیں
کانگریس کے رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے فوری استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی ان کے حکم پر ہوئی تو وہ ذمہ دار ہیں، اور اگر انہیں اس کارروائی کا علم ہی نہیں تھا تو پھر وہ اپنے عہدے کے لیے نااہل ہیں۔
نئی دہلی میں واقع اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ انہیں یہ پریس کانفرنس اس لیے کرنا پڑی کیونکہ لوک سبھا میں انہیں بار بار بولنے سے روکا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کئی مرتبہ اسپیکر سے ایوان میں نظم برقرار رکھنے کی درخواست کی، لیکن انہیں اظہارِ خیال کا موقع نہیں دیا گیا، جبکہ حکومتی وزرا کو مسلسل بولنے کی اجازت دی جاتی رہی۔
راہول گاندھی نے کہا کہ وہ کبھی بھی بھارتیہ جنتا پارٹی، آر ایس ایس یا ان سے وابستہ کسی بھی فرد سے معافی نہیں مانگیں گے۔ ان کے مطابق بعض حلقوں کی جانب سے انہیں معافی مانگنے کی صورت میں بولنے کا وقت دینے کی بات کی گئی، لیکن انہوں نے اسے مسترد کر دیا۔
کانگریس رہنما نے دعویٰ کیا کہ بیس جولائی کو پارلیمنٹ کے احاطے میں انہوں نے خود امت شاہ کو پولیس افسران سے مسلسل رابطہ کرتے دیکھا۔ ان کے بقول اسی بنیاد پر دو ہی امکانات بنتے ہیں، یا تو وزیر داخلہ نے ربڑ کی گولیاں، لاٹھی چارج اور دیگر طاقت کے استعمال کی منظوری دی، یا پھر انہیں اپنے ماتحت اداروں کی کارروائی کا علم ہی نہیں تھا۔
راہول گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ امت شاہ کو عہدے سے ہٹایا جائے اور معاملے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایک آزاد اور اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو انصاف دلانے کے لیے اپوزیشن اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے۔



