علاقائی خبریںقومی

۱۴ سالہ طالب علم نے کباڑ سے شمسی برقی گاڑی تیار کرلی

اڑیسہ کے ۱۴ سالہ سوراج ستپتی نے گاڑیوں کے کباڑ سے دو نشستوں پر مشتمل شمسی توانائی سے چلنے والی برقی گاڑی تیار کرکے اپنی تخلیقی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ بھوانی پٹنا کے وکاش رہائشی اسکول میں نویں جماعت کے طالب علم سوراج نے اس گاڑی کو وولٹ ایکس کا نام دیا اور اسے تیار کرنے میں تین ماہ لگائے۔

کباڑ سے گاڑی بنانے کا خواب

سوراج نے بتایا کہ وہ کافی عرصے سے ضائع شدہ چیزوں کو کارآمد بنانے کا خواہش مند تھا۔ اسی مقصد کے تحت وہ مختلف گاڑیوں کے گیراجوں میں جاتا اور چار پہیہ گاڑیوں کے کباڑ سے کارآمد پرزے جمع کرتا رہا۔ بعد میں اس نے موٹر، بیٹری، اسٹیئرنگ اور بریک کے نظام کو یکجا کرکے گاڑی تیار کی۔

سوراج کے مطابق گاڑی خود تیار کرکے اس میں بیٹھنا اس کا خواب تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ گاڑی بجلی کے ساتھ شمسی توانائی سے بھی چل سکے۔ چارجنگ کے مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نے گاڑی میں شمسی توانائی کا نظام شامل کیا اور رات کے وقت استعمال کے لیے بیٹری کا انتظام بھی رکھا۔

۲۵ کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار

سوراج کے مطابق وولٹ ایکس میں ۴۸ وولٹ اور ۸۰۰ واٹ کی بغیر برش والی برقی موٹر، ۴۸ وولٹ کی بیٹری اور قرصی بریک کا نظام موجود ہے۔ گاڑی تقریباً ۲۵ کلومیٹر فی گھنٹہ کی زیادہ سے زیادہ رفتار حاصل کرسکتی ہے۔ اسے مکمل چارج ہونے میں تقریباً تین سے چار گھنٹے لگتے ہیں، جبکہ گاڑی کی تیاری پر تقریباً ایک لاکھ روپے خرچ ہوئے۔

گاڑی تیار کرنے کے دوران اسٹیئرنگ نظام کو درست طریقے سے چلانا سوراج کے لیے سب سے بڑا چیلنج ثابت ہوا۔ اس نے متعدد مرتبہ تجربات کیے اور آخرکار اسے کامیابی سے کام کرنے کے قابل بنایا۔

چار نشستوں والی گاڑی بنانے کا منصوبہ

سوراج اب وولٹ ایکس کو مزید بہتر بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ وہ اسے چار نشستوں والی گاڑی میں تبدیل کرنا اور چاروں پہیوں میں قرصی بریک لگانے پر کام کررہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ مستقبل میں وہ ایسی گاڑی بازار میں لانا چاہتا ہے اور حکومتی تعاون ملنے پر مزید برقی گاڑیاں تیار کرکے مسافروں کے لیے اضافی سہولتیں فراہم کرنا چاہتا ہے۔

سوراج کے والد نے اس کی کامیابی پر فخر کا اظہار کیا، جبکہ والدہ نے بتایا کہ ابتدا میں انہیں خدشہ تھا کہ وہ پڑھائی کے بجائے گاڑی بنانے میں زیادہ وقت دے رہا ہے، لیکن بعد میں انہوں نے اس کی حوصلہ افزائی شروع کردی۔

اسکول کی پرنسپل آرتی مشرا کے مطابق سوراج نے سائنس اور منصوبہ جاتی کام میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔ اسکول انتظامیہ گاڑی کی مزید تیاری میں اس کی مدد کرے گی اور پیٹنٹ کے لیے درخواست دینے کے امکانات کا بھی جائزہ لے گی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button