تلنگانہحیدرآبادعلاقائی خبریںقومی

ہندوستانی پرچم کی تیاری میں حیدرآباد کی فنکارہ ثریا طبیب کا اہم کردار

ہندوستان کا قومی پرچم آج ہر بھارتی کے لیے آزادی، اتحاد اور قومی وقار کی علامت ہے، لیکن اس کی موجودہ شکل کے پیچھے حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی ایک باصلاحیت خاتون ثریا طبیب کی فنکارانہ بصیرت بھی شامل تھی۔

15 اگست 1947 سے چند ہفتے قبل ہندوستان کو ایک ایسے قومی پرچم کی فوری ضرورت تھی جو کسی سیاسی جماعت کی علامت نہ ہو۔ اسی مرحلے پر ثریا طبیب اور ان کے شوہر بدرالدین طبیب نے پرچم کے نئے ڈیزائن پر کام کیا۔

ثریا کا تعلق حیدرآباد کے معروف حیدری خاندان سے تھا۔ دکن کی فنون، دستکاری، بُنائی اور رنگوں کی روایات سے قریب رہنے کے باعث انہیں کپڑے، نقش و نگار اور بصری توازن کی اچھی سمجھ حاصل تھی۔

اس وقت کانگریس کے پرچم میں درمیان میں چرخہ موجود تھا، لیکن قومی پرچم کو سیاسی وابستگی سے بالاتر رکھنے کے لیے چرخے کی جگہ اشوک چکر شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ سارناتھ کے اشوک ستون سے متاثر یہ چکر 24 تیلیوں پر مشتمل تھا اور اسے قانون، سچائی اور ترقی کی علامت سمجھا گیا۔

ثریا نے اس نشان کو کاغذ پر واضح انداز میں تیار کیا اور اسے ہاتھ سے بُنے ہوئے کھادی کے کپڑے پر منتقل کرنے کے عملی مسئلے کو حل کیا۔ ابتدا میں چکر کا رنگ سیاہ رکھا گیا تھا، تاہم مہاتما گاندھی کی ہدایت پر اسے گہرے نیلے رنگ میں تبدیل کیا گیا۔

1947 کے گرم موسم میں دہلی کے کناٹ پلیس میں پہلے نمونہ پرچم کی سلائی اور تیاری کی نگرانی بھی ثریا نے کی۔ یہی ابتدائی نمونہ آزادی کی تاریخی رات وزیراعظم جواہر لال نہرو کی گاڑی پر لگایا گیا۔

ثریا اور بدرالدین طبیب نے صرف قومی پرچم ہی نہیں بلکہ قومی نشان کی تیاری میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ثریا نے سارناتھ کے شیروں کے ستون کا واضح تصویری خاکہ تیار کیا، جو بعد میں ہندوستان کے قومی نشان کی بنیاد بنا۔

یہ تاریخ بتاتی ہے کہ ہندوستانی پرچم کے سفر میں حیدرآباد کی ایک فنکارہ کی تخلیقی بصیرت بھی ہمیشہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button