دو یومِ آزادی کے درمیان حیدرآباد کا فراموش شدہ سال
15 اگست 1947 کو ہندوستان برطانوی راج سے آزاد ہوا، لیکن حیدرآباد کے لیے آزادی کا سفر اس کے بعد بھی ایک سال تک الجھن، سیاسی کشمکش اور خونریزی سے بھرا رہا۔ آخری نظام عثمان علی خان نے آزاد ہندوستان میں شامل ہونے کے بجائے اپنی ریاست کو خودمختار رکھنے کی کوشش کی، جس نے حیدرآباد کو نئی بھارتی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی مسئلہ بنا دیا۔
حیدرآباد کی ریاست تقریباً 82 ہزار مربع میل پر پھیلی ہوئی تھی اور موجودہ تلنگانہ کے علاوہ مہاراشٹرا اور کرناٹک کے کچھ علاقوں تک وسیع تھی۔ ریاست میں کئی زبانیں بولی جاتی تھیں، جبکہ اردو سرکاری زبان تھی۔ دیہی علاقوں میں جاگیرداری نظام قائم تھا، جہاں جاگیردار طاقتور مقامی حکمرانوں کی طرح کام کرتے تھے اور کسانوں کو سخت حالات کا سامنا تھا۔
1947 میں برطانوی اقتدار کے خاتمے کے بعد کسانوں کی مسلح بغاوت نے حالات مزید پیچیدہ کر دیے۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی حمایت سے کھمم، ورنگل اور نلگنڈہ میں کسانوں نے جاگیرداروں کے خلاف مزاحمت شروع کی اور اپنی زمینیں واپس لینے کی کوشش کی۔
کسانوں کی بغاوت، رضاکاروں کی سرگرمیوں اور ریاست کے مستقبل پر جاری تنازع نے صورتحال کو انتہائی کشیدہ بنا دیا۔ بالآخر ستمبر 1948 میں بھارتی فوج نے حیدرآباد میں کارروائی کی اور ریاست کو بھارتی یونین میں شامل کر لیا گیا۔
اس کارروائی کے بعد بڑے پیمانے پر خونریزی ہوئی۔ سندر لال کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق اس دوران ہزاروں مسلمانوں کے قتل کا ذکر ملتا ہے۔
حیدرآباد کی یہ تاریخ یاد دلاتی ہے کہ آزادی صرف 15 اگست 1947 کی تاریخ تک محدود نہیں تھی؛ بعض علاقوں کے لیے آزادی اور سیاسی انضمام کا سفر اس کے بعد بھی شدید آزمائشوں سے گزرا۔



