علاقائی خبریںقومی

بھارت روسی تیل کی خریداری فوری طور پر بند نہیں کرسکتا، نرملا سیتارامن

بھارت کی وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے کہا ہے کہ ملک روس سے خام تیل کی خریداری فوری طور پر بند کرکے دوسرے ممالک سے تیل لینا شروع نہیں کرسکتا۔ ان کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی دستیاب مقدار محدود ہے اور روسی تیل سے دوری کی صورت میں قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

عالمی تیل کی محدود دستیابی

سیتارامن نے بزنس لائن چینج میکر ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت روس سے تیل خریدنا بند کرکے دوسرے ذرائع کا رخ کرسکتا ہے، لیکن ایسا کرنے سے دستیاب تیل پر دباؤ بڑھے گا اور قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو بھارت کے مفاد کو اولین ترجیح دینا ہوگی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ بھارت دنیا کے مختلف حصوں سے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرتا رہے گا اور تیل کے حصول میں دستیابی اور توانائی کے تحفظ کو مدنظر رکھا جائے گا۔

خلیجی خطے میں رکاوٹوں کا اثر

سیتارامن نے عالمی توانائی منڈی میں رکاوٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خلیجی خطے میں حملوں اور بعض تنصیبات کو نقصان پہنچنے سے تیل کی دستیاب مقدار متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق بھارت پہلے ہی خام تیل کے ذرائع میں تنوع پیدا کررہا ہے، تاہم روسی تیل کی جگہ لینے کے لیے کئی ممالک سے اضافی فراہمی درکار ہوگی۔

بھارتی ریفائنریوں کی تکنیکی حدود

وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ بھارتی ریفائنریاں ہر قسم کے خام تیل کو یکساں طور پر صاف نہیں کرسکتیں۔ مختلف اقسام کے تیل میں کثافت اور گندھک کی مقدار جیسے عوامل اہم ہوتے ہیں، جبکہ بعض تیل معمولی تبدیلی کے باوجود بھی استعمال نہیں کیے جاسکتے۔

روسی تیل پر امریکی دباؤ

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ روسی توانائی خریدنے والے ممالک پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ روس اور یوکرین جنگ کے بعد بھارت روسی خام تیل کے بڑے خریداروں میں شامل رہا ہے۔ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے بھی بھارت، چین اور ترکی سے روس کے ساتھ توانائی تجارت کم کرنے کی اپیل کی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button