بھارت، مشرق وسطیٰ اور یورپ اقتصادی راہداری کو امریکی حمایت، سعودی کردار اہم
امریکہ کی حمایت کے بعد بھارت، مشرق وسطیٰ اور یورپ اقتصادی راہداری کی توجہ بڑھ گئی ہے، تاہم اس منصوبے کی تکمیل میں سعودی عرب کی شمولیت اہم سمجھی جارہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں راہداری کی حمایت کی ہے۔
بھارت، خلیج اور یورپ کو جوڑنے کا منصوبہ
بھارت، مشرق وسطیٰ اور یورپ اقتصادی راہداری کا مقصد بھارت کو خلیجی ممالک کے ذریعے یورپ سے جوڑنا ہے۔ سرکاری منصوبے کے مطابق راہداری میں سمندری راستوں، ریلوے، پائپ لائن اور ڈیجیٹل رابطے شامل ہوں گے۔ منصوبے میں بھارت، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، اردن، اسرائیل اور یورپی ممالک کے درمیان رابطہ قائم کرنے کی تجویز ہے۔
اس منصوبے کے حامیوں کے مطابق اس راستے سے خلیجی توانائی کو بھارت اور یورپ تک پہنچانے کے ساتھ تجارت اور رسد کے نظام کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ یہ خلیج سے بحیرہ روم تک متبادل راستہ فراہم کرسکتا ہے۔
سعودی عرب کی شمولیت کیوں اہم؟
اگست ۲۰۲۶ میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا، جس کے تحت کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ سعودی حکام کے مطابق معاہدے کا مقصد اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔
متبادل راستوں کی بحث
بعض مغربی تجزیہ کاروں نے شام کو خلیجی توانائی کو بحیرہ روم تک پہنچانے کے ممکنہ راستے کے طور پر دیکھا ہے، تاہم اس راہداری میں پہلے ہی متعدد ممالک شامل ہیں۔ بھارتی حکومت کے مطابق یہ منصوبہ بھارت، خلیج اور یورپ کے درمیان رابطے اور اقتصادی انضمام کو فروغ دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
بھارت نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ توانائی، دفاع اور تجارت سمیت شعبوں میں تعلقات مضبوط کیے ہیں۔ تاہم، راہداری کی عملی تکمیل کے لیے سعودی عرب سمیت شریک ممالک کے درمیان بنیادی ڈھانچے، سلامتی اور علاقائی تعاون سے متعلق معاملات پر پیش رفت ضروری ہوگی۔



