جھارکھنڈ میں 2024 کا جے ایس ایس سی۔سی جی ایل پرچہ بھی لیک، ہر امیدوار سے 12 لاکھ روپے لینے کا انکشاف
جھارکھنڈ میں امتحانی پرچہ لیک اسکینڈل نے ایک بار پھر ہلچل مچا دی ہے۔ ریاست میں حالیہ جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی امتحانات میں بے ضابطگیوں کی سی آئی ڈی تحقیقات جاری ہیں، جس دوران 2024 کے جے ایس ایس سی مشترکہ گریجویٹ سطح کے امتحان سے متعلق بھی چونکا دینے والے دعوے سامنے آئے ہیں۔
تحقیقات کے دوران گرفتار اہم ملزم ابھے تیواری عرف منوج کمار تیواری نے مبینہ طور پر تفتیش کاروں کو بتایا کہ 2024 میں ہونے والے جے ایس ایس سی۔سی جی ایل امتحان کا پرچہ لیک کیا گیا تھا۔ ملزم کے بیان کے مطابق کچھ امیدواروں کو امتحان سے پہلے سوالات اور ان کے جوابات فراہم کیے گئے۔
تحقیقات میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق مبینہ طور پر ہر امیدوار سے 12 لاکھ روپے لیے گئے۔ تقریباً 15 امیدواروں سے مجموعی طور پر ایک کروڑ 80 لاکھ روپے وصول کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً 45 امیدواروں کو بوکارو کے ایک مکان میں لے جایا گیا، جہاں انہیں مبینہ طور پر سوالیہ پرچے کے 65 سوالات اور ان کے جوابات یاد کرائے گئے۔
دوسری جانب پولیس نے اس معاملے میں سابق جے پی ایس سی چیئرمین ایل کیانگتے کو بھی گرفتار کیا ہے۔ وہ گزشتہ ماہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوئے تھے اور فی الحال سی آئی ڈی ان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔
جھارکھنڈ کے طلبہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ معاملے کی تحقیقات مرکزی تفتیشی بیورو کے حوالے کی جائیں اور حالیہ جے پی ایس سی و جے ایس ایس سی امتحانات منسوخ کیے جائیں۔ مطالبات منظور نہ ہونے پر طلبہ اور حکومت کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔



