گوتم اڈانی کے خلاف فوجداری مقدمہ خارج، امریکی عدالت سے بڑی راحت
اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی کو امریکی عدالت سے بڑی قانونی راحت مل گئی ہے۔ نیویارک کی مشرقی ضلعی عدالت نے مبینہ رشوت کیس میں گوتم اڈانی، ساگر اڈانی اور اڈانی گرین کے سربراہ وینیت جین کے خلاف عائد فوجداری الزامات خارج کردیے ہیں۔
یہ مقدمہ نومبر 2024 میں امریکی استغاثہ کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔ حکام نے الزام عائد کیا تھا کہ گوتم اڈانی اور دیگر افراد نے بھارت میں شمسی توانائی کے منصوبوں کے معاہدے حاصل کرنے کے لیے بھارتی سرکاری اہلکاروں کو تقریباً 25 کروڑ ڈالر کی رشوت دینے کا منصوبہ بنایا۔
امریکی استغاثہ کے مطابق ان منصوبوں سے اڈانی گروپ کو تقریباً دو ارب ڈالر کا منافع حاصل ہونے کی توقع تھی۔ الزام یہ بھی تھا کہ امریکی سرمایہ کاروں سے رقم حاصل کرنے کے لیے بانڈز جاری کرتے وقت انہیں مبینہ طور پر گمراہ کیا گیا۔
تاہم اڈانی گروپ نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا تھا۔ گروپ کا مؤقف رہا ہے کہ اس نے تمام متعلقہ قوانین اور ضابطوں کی پابندی کی۔
اڈانی نے کہا کہ وہ عدالت کے فیصلے کو احترام کے ساتھ قبول کرتے ہیں اور مستقبل میں بھی ملک کی ترقی، قدر پیدا کرنے اور عوامی مفاد کے لیے کام کرنے کے اپنے عزم پر قائم رہیں گے۔
امریکی عدالت کے فیصلے کو اڈانی گروپ کے لیے ایک اہم قانونی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے کمپنی کے چیئرمین اور دیگر متعلقہ افراد کے خلاف اس مقدمے میں جاری فوجداری کارروائی کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔



