علاقائی خبریںقومی

ہماچل پردیش میں مون سون کی تباہی، 157 افراد ہلاک، 259 سڑکیں بند

ہماچل پردیش میں مون سون کی شدید بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے کے دوران بارش سے متعلق مختلف حادثات میں 157 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ سیکڑوں افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات نے تشویش مزید بڑھا دی ہے۔

ریاستی ہنگامی کارروائی مرکز کی تازہ رپورٹ کے مطابق 30 جون سے 9 اگست تک لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک آنے والے سیلاب کے باعث 68 افراد جان سے گئے، جبکہ 89 افراد سڑک حادثات میں ہلاک ہوئے۔ تقریباً 257 افراد لاپتہ ہیں۔

شدید بارشوں کے باعث ریاست بھر میں 259 سڑکیں بند ہوگئی ہیں، جن میں اہم منڈی۔کلو شاہراہ بھی شامل ہے۔ منڈی ضلع سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں 120 سڑکیں بند ہیں۔ چمبا میں 42، کلو میں 40 اور شملہ میں 30 سڑکیں آمدورفت کے لیے بند ہیں۔

قدرتی آفت نے بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ تقریباً 900 سرکاری و نجی املاک متاثر ہوئی ہیں جبکہ مجموعی نقصان کا تخمینہ 886 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔

بجلی اور پانی کا نظام بھی متاثر

مسلسل بارش کے باعث بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔ ریاست میں 161 بجلی کے ٹرانسفارمر ایک ہفتے سے زائد عرصے سے خراب ہیں۔ منڈی میں 77، شملہ میں 43 اور کلو میں 40 ٹرانسفارمر متاثر ہوئے ہیں۔

دوسری جانب 54 پانی کی فراہمی کی اسکیمیں بھی متاثر ہوئی ہیں، جس سے کئی علاقوں میں پینے کے پانی کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔

محکمہ موسمیات نے پانچ اضلاع میں شدید بارش کا نارنجی انتباہ جاری کیا ہے۔ کانگڑا، منڈی، ہمیراپور، شملہ اور سرمور میں مزید تیز بارش کا امکان ہے۔ حکام سڑکیں بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم مسلسل بارش اور نئی لینڈ سلائیڈنگ امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button