علاقائی خبریںقومی

20 جولائی کو پیلٹ لگنے سے کم از کم 10 افراد زخمی، آر ٹی آئی میں انکشاف

20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران طلبہ اور مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے معاملے نے ایک بار پھر سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک آر ٹی آئی رپورٹ کے مطابق مظاہرے کے دوران پیلٹ لگنے سے کم از کم 10 افراد زخمی ہوئے۔

معلومات کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے منعقد کیے گئے مارچ کے دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا تھا۔ اسی دوران پیلٹ گن کے استعمال کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ساکیت گوکھلے نے دعویٰ کیا کہ مارچ کے دوران کم از کم 10 افراد پیلٹ سے زخمی ہوئے۔

لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق وہاں 9 افراد کا پیلٹ لگنے سے زخمی ہونے کے بعد علاج کیا گیا۔ جبکہ صفدرجنگ اسپتال میں بھی ایک شخص کو پیلٹ کے زخموں کے باعث طبی امداد دی گئی۔

آر ٹی آئی کے تحت ایمس اور رام منوہر لوہیا اسپتال سے بھی پیلٹ سے ہونے والے زخمیوں کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ اس معاملے پر سیاسی حلقوں میں شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب دہلی پولیس نے پیلٹ استعمال کرنے کی تردید کی ہے۔ تاہم مظاہرین کو قابو کرنے کے لیے ریپڈ ایکشن فورس کی جانب سے مختلف غیر مہلک آلات اور آنسو گیس کے استعمال کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

مبینہ طور پر کارروائی کے دوران غیر مہلک گولے، آنسو گیس کے دستی بم، انسدادِ ہنگامہ بندوق اور پلاسٹک پیلٹ استعمال کیے گئے۔ واقعے نے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال اور جواب دہی سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button