تعلیمعلاقائی خبریںقومی

نیٹ امتحان کا پرچہ پرنٹنگ پریس سے لیک ہونے کا شبہ

ملک کے سب سے بڑے طبی داخلہ امتحان نیٹ یو جی کے سوالیہ پرچہ لیک معاملے میں بڑا انکشاف سامنے آیا ہے۔ تحقیقاتی اداروں کو شبہ ہے کہ سوالیہ پرچہ سب سے پہلے مہاراشٹر کے شہر ناسک میں واقع ایک پرنٹنگ پریس سے لیک ہوا۔

رپورٹس کے مطابق لیک شدہ پرچہ بعد میں مختلف ریاستوں تک “گیس پیپر” کے نام پر پہنچایا گیا۔ اس سلسلے میں ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔

جانچ ایجنسیوں کے مطابق پرچہ پہلے ہریانہ کے گروگرام میں موجود ایک ڈاکٹر تک پہنچا، جہاں سے یہ راجستھان کے جے پور کے ایک شخص نے خریدا۔ بعد میں راجستھان کے سیکر شہر میں کام کرنے والے ایک ایجنٹ نے اسے مزید آگے پھیلایا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ پرچہ دہلی، بہار، کیرالا، اتراکھنڈ اور جموں کشمیر سمیت کئی ریاستوں میں امتحان سے تقریباً پندرہ دن پہلے گردش کررہا تھا۔

معاملہ اس وقت سامنے آیا جب کیرالا میں زیر تعلیم ایک طالب علم نے یہ گیس پیپر اپنے والد کو بھیجا اور دعویٰ کیا کہ اگلے دن امتحان میں یہی سوالات آئیں گے۔ بعد میں ہاسٹل میں رہنے والی طالبات کو بھی یہ پرچہ واٹس ایپ کے ذریعے بھیج دیا گیا۔

امتحان مکمل ہونے کے بعد ایک استاد نے بتایا کہ حیاتیات اور کیمیا کے کئی سوالات اسی گیس پیپر سے ملتے جلتے تھے۔ اس کے بعد معاملہ پولیس اور قومی جانچ ایجنسیوں تک پہنچا۔

تحقیقات کے دوران ہاسٹل آپریٹر سمیت کئی افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ حکام پورے معاملے کی گہرائی سے جانچ کررہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button