تلنگانہ میں تعلیم کا بڑا انقلاب، ۱۰۰ حلقوں میں جدید اسکول قائم ہوں گے
ریونت ریڈی نے ریاست میں سرکاری تعلیم کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے بڑے تعلیمی منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت آئندہ نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے تعلیم پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔
ریاستی حکومت نے ۱۰۰ حلقوں میں ۱۰۰ مربوط جدید اسکولوں کی تعمیر کے لیے ۲۰ ہزار کروڑ روپے خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان اسکولوں میں نرسری سے بارہویں جماعت تک تعلیم فراہم کی جائے گی تاکہ طلبہ دسویں جماعت کے بعد تعلیم ترک نہ کریں۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ اس وقت ریاستی بجٹ کا ۸ فیصد حصہ تعلیم کے لیے مختص ہے جسے مستقبل میں بڑھا کر ۱۵ فیصد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم پر خرچ کوئی بوجھ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں میں سرمایہ کاری ہے۔
طلبہ کی سہولت کے لیے حکومت نے غذائی اخراجات میں ۴۰ فیصد اضافہ کیا ہے جبکہ دیگر سہولیات کے اخراجات میں بھی بڑا اضافہ کیا گیا ہے۔ اب طلبہ کو صبح کے ناشتے کے ساتھ دودھ اور راگی جاوا بھی فراہم کیا جائے گا تاکہ کوئی بچہ خالی پیٹ تعلیم حاصل نہ کرے۔
حکومت نے اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے ۵۰۰ اساتذہ کو بیرونِ ملک بھیجنے کا بھی اعلان کیا تاکہ وہ جدید تعلیمی نظام کا مطالعہ کرسکیں۔ اس سے قبل ۲۵ اساتذہ کو فن لینڈ بھیجا جا چکا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سرکاری اسکولوں کو یتیم خانوں کی طرح نہیں بلکہ تلنگانہ کے مستقبل کی بنیاد سمجھا جانا چاہیے۔



