اٹلی سے امریکی فوج ہٹانے پر غور، ٹرمپ کے بیان سے نئی ہلچل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اٹلی میں موجود امریکی فوجیوں کی منتقلی پر اب بھی غور کر رہے ہیں۔ اطالوی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ جب ہمیں ضرورت تھی تو اٹلی ہمارے ساتھ نہیں تھا۔
ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے امریکی امن تجویز پر ممکنہ ردعمل کے بارے میں تبصرہ کرنے سے بھی انکار کردیا۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے روم کے دورے کے دوران کہا کہ ایران جلد واشنگٹن کی تجویز پر جواب دے سکتا ہے۔
ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اطالوی وزیر دفاع گوئیڈو کروسیتو نے کہا کہ وہ امریکی فوج کی منتقلی کی منطق کو نہیں سمجھتے۔ ان کے مطابق اٹلی بحری راستوں کے تحفظ اور بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔
اطالوی خبر رساں اداروں کے مطابق ٹرمپ پہلے بھی یورپی اتحادیوں پر تنقید کرتے ہوئے اسپین اور اٹلی میں امریکی فوجی موجودگی کم کرنے کا اشارہ دے چکے ہیں۔
امریکی محکمہ دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق دو ہزار پچیس کے اختتام تک اٹلی میں تقریباً بارہ ہزار سات سو امریکی فوجی تعینات تھے، جو جرمنی کے بعد یورپ میں دوسری بڑی امریکی فوجی موجودگی ہے۔
ٹرمپ نے حالیہ دنوں جرمنی میں بھی امریکی فوجیوں کی تعداد مزید کم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی کارروائیوں پر سیاسی نگرانی مذاکراتی طاقت کو کمزور کرتی ہے۔



