درخت بچاؤ، فلائی اوور نہیں کے بی آر کے حق میں نوجوانوں کا احتجاج
حیدرآباد کے کے بی آر پارک کے اطراف ہزاروں درختوں کی کٹائی کے خلاف نوجوان نسل نے خاموش اور پُرامن احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے مجوزہ فلائی اوور اور انڈر پاس منصوبہ ماحول، انسانی صحت اور شہری زندگی کے لیے خطرناک ثابت ہوگا۔
احتجاج میں زیادہ تر نوجوان شامل تھے جنہوں نے پلے کارڈ اٹھا کر مطالبہ کیا کہ “درخت بچاؤ، شہر بچاؤ”۔ مظاہرین کے مطابق منصوبے کے تحت پارک کے اطراف تقریباً ۱۵۰۰ سے زائد درخت پہلے ہی کاٹے جا چکے ہیں جبکہ مزید ہزاروں درخت خطرے میں ہیں۔
ماحولیاتی کارکن ڈاکٹر لبنیٰ سروت نے کہا کہ اس منصوبے کے حق میں نہ کوئی سائنسی جواز موجود ہے اور نہ ہی مکمل عوامی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اگر سبزہ کم ہوا تو شہر کا درجۂ حرارت اور آلودگی مزید بڑھے گی۔
احتجاج کے دوران کچھ بزرگ شہریوں اور نوجوان مظاہرین کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ بعض افراد نے فلائی اوور کو ٹریفک کا حل قرار دیا جبکہ نوجوانوں نے سوال اٹھایا کہ ماضی میں بننے والے فلائی اوور بھی ٹریفک کم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
مظاہرین نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ درختوں کی کٹائی رات کے اوقات اور تعطیلات میں کی جا رہی ہے تاکہ قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔ نوجوانوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت منصوبے کی مکمل تفصیلات، ماحولیاتی اثرات کی رپورٹ اور متبادل تجاویز عوام کے سامنے پیش کرے۔
ڈاکٹر لبنیٰ سروت نے الزام لگایا کہ درختوں کی کٹائی کے لیے جن کمیٹیوں کے نام استعمال کیے جا رہے ہیں وہ قانونی حیثیت نہیں رکھتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماحولیات اور ترقی ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ساتھ ساتھ چلنے چاہئیں۔
احتجاج میں شریک شہریوں کا کہنا تھا کہ اگر درخت ختم ہوگئے تو نہ صرف پرندے اور جنگلی حیات متاثر ہوں گے بلکہ شہر کی خوبصورتی اور صاف فضا بھی ختم ہو جائے گی۔



