ٹرمپ کو بڑا دھچکا، امریکی عدالت نے ۱۰ فیصد عالمی ٹیرفس مسترد کردیے
امریکہ کی تجارتی عدالت نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے ۱۰ فیصد عالمی محصولات کے خلاف اہم فیصلہ سناتے ہوئے انہیں غیر قانونی قرار دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ تمام ممالک پر یکساں محصولات عائد کرنے کا اقدام انیس سو چوہتر کے تجارتی قانون کے تحت درست نہیں تھا۔
یہ فیصلہ اُن چھوٹے کاروباروں کے حق میں آیا جنہوں نے فروری میں نافذ کیے گئے محصولات کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔ عدالت کے دو ججوں نے محصولات کو غیر مناسب قرار دیا جبکہ ایک جج نے اختلافی رائے دیتے ہوئے کہا کہ فیصلہ قبل از وقت ہے۔
کاروباری اداروں کا مؤقف تھا کہ یہ محصولات دراصل سپریم کورٹ کے اُس فیصلے سے بچنے کی کوشش تھی جس میں دو ہزار پچیس کے محصولات کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے تجارتی خسارے اور ڈالر کی ممکنہ کمزوری کو بنیاد بنا کر یہ اقدام کیا تھا۔
کھلونا ساز کمپنی کے سربراہ جے فورمین نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی محصولات سے کاروبار متاثر ہوتا ہے اور عالمی سپلائی نظام میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق عدالت کے فیصلے سے کمپنیوں کو استحکام اور واضح سمت ملے گی۔



