روس یوکرین جنگ میں بڑی پیش رفت، ایک ہزار قیدیوں کے تبادلے کی تیاری
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ روس کے ساتھ مجوزہ قیدیوں کے تبادلے کے لیے ایک ہزار قیدیوں کی فہرست روسی حکام کے حوالے کردی گئی ہے۔ یہ تبادلہ دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔
زیلنسکی کے مطابق ایک ہزار کے بدلے ایک ہزار قیدیوں کے تبادلے کی تیاریاں جاری ہیں اور اس عمل کو مکمل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے اس معاہدے کی ضمانت دینے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
یوکرینی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ روس کے ساتھ جاری تنازع کا خاتمہ ضروری ہے اور خطے میں مضبوط سلامتی کی ضمانت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن اب حقیقی مذاکرات کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔
دوسری جانب روس اور یوکرین نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ روسی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ یوکرینی افواج نے چوبیس گھنٹوں میں ہزاروں مرتبہ جنگ بندی توڑی، جس کے جواب میں روسی فوج نے کارروائیاں کیں۔
ادھر یوکرینی حکام کے مطابق روسی حملوں میں کم از کم ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ یوکرین کی فوج نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج نے اتوار کے روز ساٹھ حملے کیے۔
واضح رہے کہ دونوں ممالک نے یومِ فتح تقریبات کے دوران تین روزہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کیا تھا، تاہم میدانِ جنگ میں کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔



