علاقائی خبریںقومی

پٹنہ میں امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کا احتجاج، حکومت کو تین دن کی مہلت

امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، سوالناموں کے افشا اور بھرتی میں تاخیر کے خلاف طلبہ کی تحریک منگل کو پٹنہ پہنچ گئی۔ طلبہ نے حکومت کو مطالبات پورے کرنے کے لیے تین دن کی مہلت دی ہے۔ مطالبات تسلیم نہ ہونے پر 21 اگست سے بھوک ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔

غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ

طلبہ نے گردنی باغ میں دھرنا دیا۔ مظاہرین سوالناموں کے افشا کی غیر جانب دارانہ تحقیقات، ملوث مافیا کے خلاف کارروائی، شفاف بھرتی امتحانات اور زیر التوا آسامیوں کے اعلانات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

تحریک کے رہنما دلیپ کمار نے کہا کہ حکومت کو امتحانات میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق اساتذہ بھرتی امتحان چہارم کا اعلان چوبیس گھنٹوں میں کیا جائے۔

دلیپ کمار نے بتایا کہ وزیر تعلیم متھیلیش تیواری نے جولائی کے آخر تک امتحان کا اعلان کرنے کی بات کہی تھی، تاہم ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ مطالبہ پورا نہ ہونے پر وزیر تعلیم کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کیا جائے گا۔

ایک امیدوار، ایک عہدہ

طلبہ نے بہار پبلک سروس کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ایک امیدوار کو ایک ہی عہدے کے لیے منتخب کرنے کا اصول نافذ کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک شخص مختلف تدریسی سطحوں کے لیے منتخب ہونے کے باوجود صرف ایک جگہ تدریس اختیار کرتا ہے۔

مظاہرین نے زیر التوا امتحانات اور آسامیوں کے اعلانات کے ساتھ بہار کے مقامی امیدواروں کے لیے سکونتی پالیسی نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

طلبہ کی تحریک

مظاہرین میں زیادہ تر 20 اور 30 برس کے نوجوان شامل ہیں۔ مختلف علاقوں سے آئے طلبہ احتجاج کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تحریک کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں، بلکہ بہار طلبہ یونین کے بینر تلے جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button