عادل آباد ریمس آتشزدگی، نوزائیدہ بچوں کی ہلاکتیں پانچ ہوگئیں
تلنگانہ کے عادل آباد میں راجیو گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد دو مزید نوزائیدہ بچوں کی موت ہوگئی، جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر پانچ ہوگئی ہے۔ دونوں بچے قبل از وقت پیدا ہوئے تھے اور ان کی مدت حمل ۲۶ سے ۲۸ ہفتے تھی۔
نوزائیدہ نگہداشت یونٹ میں آتشزدگی
یہ واقعہ ۲۱ ستمبر کی نصف شب کے قریب اسپتال کے خصوصی نوزائیدہ نگہداشت یونٹ میں پیش آیا، جہاں ۲۷ نوزائیدہ بچوں کا علاج جاری تھا۔ آگ لگنے کے بعد اسپتال عملے نے فوری طور پر بجلی کی فراہمی بند کی اور بچوں کو قریبی وارڈ منتقل کیا۔ بعد ازاں کئی بچوں کو مزید علاج کے لیے قریبی نجی اسپتالوں منتقل کیا گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق برقی تار میں خرابی کے باعث نومولود بچوں کے وارڈ میں نصب ہوا خارج کرنے والے آلے میں آگ لگی۔ اس آلے میں موجود پلاسٹک کے اجزا جلنے سے وارڈ میں گھنا دھواں پھیل گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی محکمہ فائر کے اہلکار موقع پر پہنچے اور امدادی کارروائی انجام دی۔
حادثے کے چند گھنٹے بعد تین نوزائیدہ بچوں کی موت ہوئی تھی، جن میں پانچ روزہ اور چار روزہ بچے بھی شامل تھے۔ منگل کی رات مزید دو بچوں کی موت کے بعد ہلاکتیں پانچ ہوگئیں۔
حکومت نے جامع تحقیقات کا حکم دیا
وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے بچوں کی اموات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کی ہدایت دی۔ وزیر صحت سی دامودر راجا نرسمہا نے ریمس کا دورہ کرکے جائے حادثہ کا معائنہ کیا اور ضلعی حکام، اسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹروں سے امدادی کارروائیوں اور زیر علاج بچوں کی صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
ریمس میں نیا منصوبہ
حکومت نے ریمس میں ۱۵۰ بستروں پر مشتمل ماں اور بچے کی صحت کا نیا مرکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق اس سے نومولود بچوں اور زچگی کی بہتر طبی سہولتیں فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ تقریباً ۸۰۰ بستروں والے ریمس کو مستقبل میں تقریباً ۹۵۰ بستروں کی گنجائش والے خصوصی طبی مرکز میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بھی ہے۔



