چھ بانی، ایک لاکھ 87 ہزار روپے اور دہلی کی چھت سے شروع ہونے والی ایچ سی ایل کی کہانی
بھارت کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایچ سی ایل کو پچاس سال مکمل ہونے پر شریک بانی اجے چودھری نے کمپنی کے ابتدائی دنوں کی دلچسپ داستان تازہ کردی۔ 1976 میں چھ نوجوانوں نے محدود وسائل کے باوجود بھارتی کمپیوٹر بنانے کا خواب دیکھا اور اسے حقیقت میں بدلنے کے لیے اپنی ملازمتیں چھوڑ دیں۔
اجے چودھری کے مطابق شیو نادر، ارجن ملہوترا، یوگیش ویدیا، سبھاش اروڑہ، ڈی ایس پوری اور انہوں نے مل کر صرف ایک لاکھ 87 ہزار روپے جمع کیے۔ یہ رقم قرض، ذاتی بچت اور ایک بانی کی جانب سے گاڑی فروخت کرکے حاصل کی گئی۔
ان کا پہلا دفتر دہلی کے گالف لنکس میں واقع ایک چھوٹی سی چھت پر قائم کیا گیا تھا۔ اس وقت کمپیوٹر بھارت میں عام لوگوں کے لیے ایک نئی اور غیر مانوس ٹیکنالوجی تھے، لیکن بانیوں کو یقین تھا کہ مائیکرو پروسیسر مستقبل بدل دے گا۔
ابتدا میں کمپنی کو کمپیوٹر تیار کرنے کے لیے مینوفیکچرنگ لائسنس درکار تھا۔ اس مسئلے کے حل کے لیے اتر پردیش الیکٹرانکس کارپوریشن سے شراکت داری کی گئی، جس کے بعد ہندوستان کمپیوٹرز لمیٹڈ، یعنی ایچ سی ایل، وجود میں آئی۔
بعد میں کوئمبٹور میں ایک بڑے اور معروف ادارے سے مقابلہ ہوا۔ محدود وسائل کے باوجود ایچ سی ایل نے آرڈر حاصل کیا، جو آگے چل کر مزید کئی آرڈرز کا سبب بنا۔
پچاس برس بعد اجے چودھری نے کہا کہ ایچ سی ایل کی اصل کہانی اس کی موجودہ کامیابی نہیں بلکہ چھ لوگوں، محدود سرمایہ، چھوٹے دفتر اور بڑے خواب سے شروع ہوئی۔



