گھر سے بے حساب نقدی برآمدگی: جسٹس ورما کے خلاف تینوں الزامات ثابت
سابق ہائی کورٹ جج جسٹس یشونت ورما کے سرکاری گھر سے بڑی مقدار میں بے حساب نقدی ملنے کے معاملے میں تحقیقات کرنے والی تین رکنی کمیٹی نے ان کے خلاف عائد تینوں الزامات ثابت قرار دے دیے ہیں۔
پارلیمنٹ میں پیش کی گئی 126 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کمیٹی نے جسٹس ورما کی جانب سے نقدی کے بارے میں دی گئی وضاحت کو مبہم، گمراہ کن اور غیر تسلی بخش قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق مارچ 2025 میں دہلی کے تغلق کریسنٹ میں واقع ان کی سرکاری رہائش گاہ میں آگ لگنے کے بعد ایک اسٹور روم سے 500 روپے کے نوٹوں کی بڑی مقدار ملی تھی۔
کمیٹی نے اگرچہ یہ واضح طور پر قرار نہیں دیا کہ یہ رقم براہ راست جسٹس ورما کی ملکیت تھی، تاہم اس نے ان کے اس مؤقف کو مسترد کردیا کہ انہیں رقم کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا یا اسٹور روم میں موجود نقدی کی ذمہ داری ان پر عائد نہیں ہوتی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اسٹور روم میں جسٹس ورما کی ذاتی اشیا رکھنے والی ایک الماری بھی موجود تھی، جس سے ان کا اس جگہ سے تعلق ثابت ہوتا ہے۔ کمیٹی نے اس بنیاد پر پہلا الزام ثابت قرار دیا۔
تیسرے الزام کے تحت ان کے ابتدائی انکار اور بعد میں رقم سازش کے تحت رکھے جانے کے دعوے کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے ان وضاحتوں کو شواہد کو رد کرنے کے لیے ناکافی قرار دیا اور ان کے مؤقف کو گمراہ کن بتایا۔
جسٹس ورما نے اپریل 2026 میں عدالتی عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کے استعفے کے باعث برطرفی کی پارلیمانی کارروائی فی الحال غیر مؤثر ہوگئی ہے، تاہم رپورٹ کے نتائج پر پارلیمنٹ میں مزید غور کیے جانے کا امکان برقرار ہے۔



