روس سے تجارت کرنے والے ممالک پر امریکی شکنجہ، بھارت پر 100 فیصد ٹیکس کا خطرہ
امریکی سینیٹ نے روس پر نئی پابندیوں کے بل کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد روس سے تیل اور گیس خریدنے والے ممالک کے لیے مشکلات بڑھنے کا خدشہ ہے۔ نئے قانون کے تحت ایسے ممالک پر 100 فیصد تک اضافی درآمدی محصول عائد کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جس کی زد میں بھارت اور چین بھی آ سکتے ہیں۔
واشنگٹن میں سینیٹ نے یہ بل جمعہ کے روز 86 ووٹوں کے مقابلے میں 11 ووٹوں سے منظور کیا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد روس پر معاشی دباؤ بڑھانا اور ان ممالک کو ماسکو کے ساتھ تجارتی تعلقات کم کرنے پر مجبور کرنا ہے جو روس سے توانائی خرید رہے ہیں۔
امریکی مؤقف کے مطابق روس سے تیل کی خریداری اس کی معیشت کو مضبوط کرتی ہے، جس سے یوکرین جنگ جاری رکھنے کے لیے ماسکو کو مالی وسائل حاصل ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے امریکی حکومت روس کے بڑے تجارتی شراکت داروں پر بھی دباؤ بڑھانے کی تیاری کر رہی ہے۔
اگر 100 فیصد محصول نافذ کیا جاتا ہے تو بھارت سمیت روسی توانائی پر انحصار رکھنے والے ممالک کے لیے برآمدات اور تجارت پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔ اس پیش رفت سے عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں، بین الاقوامی تجارت اور امریکہ بھارت تعلقات پر بھی نئی بحث شروع ہونے کا امکان ہے۔



