بین الاقوامیعرب دنیا

اسپین میں داخلے کی کوشش، بھگدڑ اور ڈوبنے سے 18 مہاجر ہلاک

اسپین کے زیرِ انتظام شمالی افریقی علاقے سیوٹا میں اس وقت شدید انسانی بحران پیدا ہو گیا جب مراکش سے ہزاروں تارکین وطن سرحد عبور کر کے اسپین میں داخل ہونے کی کوشش کرنے لگے۔ اس دوران پیش آنے والے افسوسناک واقعات میں کم از کم اٹھارہ افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں کئی سمندر میں ڈوب گئے جبکہ متعدد افراد سرحدی رکاوٹ عبور کرنے کی کوشش کے دوران بھگدڑ کا شکار ہوئے۔

صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر اسپین نے سیوٹا میں فوج تعینات کر دی ہے تاکہ سرحدی علاقوں میں امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔ اسپین کے وزیر اعظم کے بھی متاثرہ علاقے کا دورہ کرنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے، جہاں وہ امدادی اور سیکیورٹی اقدامات کا جائزہ لیں گے۔

مقامی حکام کے مطابق سرحد پار کرنے والوں میں بڑی تعداد نوجوانوں، خواتین اور بغیر سرپرست بچوں کی بھی شامل ہے۔ ہزاروں افراد کو رہائش نہ ملنے کے باعث پارکوں، فٹ پاتھوں اور کھلے مقامات پر رات گزارنے پر مجبور ہونا پڑا، جبکہ بہت سے افراد خوراک، پانی اور طبی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔

سرحدی اہلکاروں کی نمائندہ تنظیم کے مطابق یہ صورتحال ایک سنگین انسانی المیہ اختیار کر چکی ہے۔ امدادی ٹیمیں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے اور ضرورت مند افراد کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے میں مصروف ہیں، تاہم مسلسل آنے والے افراد کے باعث انتظامات پر شدید دباؤ ہے۔

ذرائع کے مطابق بڑی تعداد میں تارکین وطن نے تراجال ساحل کے قریب سمندر کے راستے یا سرحدی باڑ عبور کر کے داخل ہونے کی کوشش کی۔ بعض افراد کامیاب رہے جبکہ کئی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں لوگوں کے بڑے ہجوم کو سرحد کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا گیا۔

تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے اچانک سرحد عبور کرنے کی کوشش کیوں کی۔ ماہرین کے مطابق غربت، بے روزگاری، تشدد اور بہتر زندگی کی تلاش تارکین وطن کی نقل مکانی کی اہم وجوہات میں شامل ہیں، جبکہ اسپین یورپ میں داخلے کا ایک اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button