آبنائے ہرمز میں کشیدگی، ایران کا دو آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ، چار دیگر واپس لوٹ گئے
ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنا کر روک دیا، جبکہ اس واقعے کے بعد چار دیگر ٹینکر اپنا راستہ بدلتے ہوئے واپس لوٹ گئے۔
ایرانی فوج کے مطابق مذکورہ آئل ٹینکر ایک ایسے راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے جسے ایران نے غیر مجاز راستہ قرار دیا ہے۔ بیان میں الزام لگایا گیا کہ ان جہازوں کو امریکی فوجی طیاروں کی نگرانی حاصل تھی اور متعدد انتباہات کے باوجود انہوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔ دوسری جانب امریکی فوج یا متعلقہ جہاز رانی کمپنیوں کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے قشم جزیرے پر امریکی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں ایک ٹیکسی ڈرائیور، اس کی اہلیہ اور دو سالہ بچہ جاں بحق ہوئے، جبکہ کئی رہائشی مکانات بھی تباہ ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حملے ایرانی عوام کے عزم کو مزید مضبوط کریں گے۔
اسی دوران آبنائے ہرمز سے متعلق عمان کی ثالثی میں جاری مذاکرات بھی بدستور جاری ہیں۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ فریقین کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کی صورتحال کو معمول پر لانا اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔



