بین الاقوامیعرب دنیا

امریکہ اور ایران مذاکرات کے لیے سفارتی کوششیں تیز

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ پاکستان دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے اور امن عمل کو متاثر کرنے والی کوششوں کو روکنے کے لیے سرگرم ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق مفاہمت کی کوششیں ایسے وقت میں جاری ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ 60 روزہ مفاہمتی معاہدے کی مدت اتوار کو ختم ہونے والی ہے۔

پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان مذاکرات کا مقصد امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کی کوشش کرنا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ صورتحال کو بہتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھتی ہیں۔ امریکی فوج نے ایک پاناما کے پرچم بردار مال بردار جہاز کو روکنے کے لیے اس کے سمت متعین کرنے والے حصے کو میزائلوں سے نشانہ بنایا، جس پر ایران کی جانب جانے کی کوشش کا الزام تھا۔

جاپان کی بھی سفارتی کوششیں

جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائچی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے ایران سے یمن کے ایران نواز حوثیوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کی درخواست کی، تاکہ باب المندب میں مزید حملوں اور کشیدگی کو روکا جاسکے۔

جاپانی وزیر اعظم نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ کامیاب مذاکرات کے بعد یہ اہم آبی راستہ جلد دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ایران نے کبھی خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ان کے مطابق تہران بین الاقوامی قوانین کے مطابق عمل کرتے ہوئے خطے میں امن اور پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے۔

موجودہ صورتحال میں پاکستان، جاپان، ایران، امریکہ اور عمان کی سفارتی سرگرمیاں خطے میں امن کی بحالی کے لیے اہم سمجھی جارہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button