ہمارے ووٹ چھیننے والے کون ہوتے ہیں؟ بنگلورو میں سی جے پی کا احتجاج
کوکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے قومی کنوینر ابھجیت دپکے نے جمعرات، 8 اکتوبر کو بنگلورو میں خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف احتجاج کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی پر جمہوریت کو نقصان پہنچانے اور ووٹ چوری کے الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے عہدے سے استعفیٰ دینے تک احتجاج جاری رہے گا۔
شہری سماجی تنظیموں اور سی جے پی کی جانب سے منعقدہ احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے ابھجیت دپکے نے الزام لگایا کہ خصوصی نظرثانی کے تحت ووٹروں کے نام حذف کرنے کا مقصد بھارتیہ جنتا پارٹی کی مخالفت کرنے والے افراد کو ووٹ کے حق سے محروم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرین سڑکوں پر اتر کر اپنے ووٹ کے حق اور جمہوریت کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
احتجاج کے دوران ایک عوامی ٹریبونل بھی منعقد کیا گیا، جہاں کرناٹک کے مختلف علاقوں سے آنے والے افراد نے انتخابی فہرستوں سے نام حذف کیے جانے سے متعلق اپنے مسائل بیان کیے۔ ٹریبونل کے بعد فریڈم پارک میں چپل احتجاج بھی منعقد کیا جانا ہے۔
دھروو راٹھی کی وضاحت
یوٹیوبر دھروو راٹھی نے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے ان الزامات کی تردید کی کہ وہ حکومت کی تبدیلی کے مقصد سے ہندوستان آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دورے کے لیے نہ ایلون مسک اور نہ جارج سوروس نے مالی مدد کی ہے۔
دھروو راٹھی نے کہا کہ ووٹ کا حق ہر شہری سے متعلق مسئلہ ہے، چاہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت کرتا ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال، بہار، اتر پردیش اور گوا میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے کے معاملات سامنے آئے ہیں۔
پرکاش راج کا سوال
پرکاش راج نے سوال اٹھایا کہ کسی شہری کا ووٹ چھیننے کا اختیار کس کے پاس ہے اور کہا کہ ووٹروں کو ہر پانچ سال بعد ووٹ دینے کے لیے بلایا جاتا ہے، لیکن اب انہیں اپنا ووٹ دوبارہ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے۔



