ادب

سہارا

مجھے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے اپنا وطن چھوڑنا پڑا۔ اور بظاہر شمیم مجھ سے الگ ہوگئی۔ اب میں تھا اور میری تعلیمی مصروفیت۔ اکثر مجھے شمیم کا خیال آجاتا اور میںسوچنے لگ جاتا۔ اللہ جانے اس نے وہ پایا یا نہیں جس کی شمیم کو تمنا تھی؟ اس سوال کے جواب میں میرا تصور مایوس کن تصویریں پیش کرتا۔ اور پھر میں گھنٹوں اسی تصور میںالجھا رہتا۔

گرمیوں کی طویل چھٹیوںمیں گھر واپس اپنے وطن آیا۔ میرے کان نہ جانے کیوں شمیم کے تعلق سے کوئی نئی خبر سننے کیلئے بے تاب تھے۔ آخر رات کوکھانے کی میز پر امی جان نے ناک منھ چڑھا کے کہا۔
’’آج سنا ہے بی بی شمیم اپنے شوہر کے گھر سے نکل کر میکے چلی آئی ہے۔ میں تو کہوں بھئی آفرین ہے ایسی لڑکی جومرتے مرتے زندگی کا ثبوت دے رہی ہے۔ نگوڑی گور کے کنارے ہے۔ سنتی ہوں خون تھوک رہی ہے مگر اب بھی وہی دم خم ہے‘‘۔اتنا کہہ چکنے کے بعد وہ میری طرف دیکھنے لگی۔ جیسے وہ اندازہ لگا رہی ہوں کہ میرا کیا خیال ہے اس آوارہ لڑکی کیلئے۔ یہ سن کر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرے منھ کا نوالہ اگلا آرہا ہے۔ میں نے پانی کا گلاس منھ سے لگا کر اپنی کیفیت چھپالی۔
دوسرے دن صبح میں اس کے یہاں گیا۔ میرا دل آنسووں سے ڈوب گیا۔ مجھے ایک علحدہ کمرے میں بیٹھا دیا گیا۔ شکنوں پڑے بستر پر ہڈیوںکا جسم پڑا تھا۔ کمرہ میں دواوں کے تیز بھنکوں کی بو،اڑ رہی تھی۔
شمیم! میں نے گھٹی ہوئی آواز میں پکارا۔ کون ’’تم‘‘ اس کی آواز میں ریگستانوں کی ویرانی اور سناٹا تھا۔ ’’تمہیں کیا ہوگیا ہے‘‘۔؟ میں بے قابو ہوکر بولا۔ ’’سرخ شفق کے عارضی ہونے کا افسوس‘‘ وہ حسرت ناک سکون کے ساتھ بولی۔ کیا ڈاکٹر علاج میں ثابت قدم نہیں رہ سکا۔‘‘ علاج تو درکنارہ وہ تشخیص بھی نہ کرسکا۔ وہ سمجھتا تھا کہ محبت، صرف وقتی جذبات کو آسودہ کرنے کا ہی نام ہے۔
اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگئی۔ اس کی دھنسی ہوئی آنکھوں میں وہی تخسیلی دھندلکا سا تھا۔ یاد ہے تم کو ’’میں نے ایک بار کہا تھا…….مجھے اپنی گرتی پڑتی تھکن کیلئے ایک سہارے کی ضرورت ہے۔
’’ہاں آج سے بہت روز پہلے۔ میں نے گھٹی ہوئی آواز میں جواب دیا تو آج بھی وہی تمنا ہے۔ مجھے سہارا چاہئے۔ چاہے وہ موت کا سرد پہلو ہی کیوں نہ ہو۔
میرے منھ سے ایک سسکی نکل گئی
میری آنکھوں کے سامنے کالی کالی آنکھوں کا اندھیرا اچھا گیا۔ ایسا اندھیرا جس میں شمیم گرتی پڑتی چلی جارہی ہے۔ پھر ہائی کلاس والے اس شخص کے گھنگریالے بال کا جال پھیل گیا۔ جس میں شمیم جکڑ کر بے بس ہوگئی۔ دفعتاً فضا میں پرواز کرتے ہوئے ہونٹ جھکے اور بے بس شمیم کے سرخ لبوں پر چپک گئے۔ کھانسی کی ٹھس ٹھس ہوئی ….اور پھر میرے سامنے ایک جسم پڑا تھا۔ جس میں سے خون کا ایک ایک قطرہ چوس لیا گیا تھا۔
’’آہ‘‘ آخر شمیم نے جیتا جاگتا خون میرے سامنے اگل دیا اور اپنی زندگی کو آسمان کی لامحدود وسعتوں میں سما دیا۔

قیصر واحدی، کامٹی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button