بین الاقوامیٹیکنالوجیعرب دنیا

مصنوعی ذہانت کے دور میں لاکھوں کی نوکریاں، این ویڈیا سربراہ کی بڑی پیش گوئی

مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے استعمال کے درمیان جہاں کئی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں ملازمتوں میں کمی اور نوجوانوں کو روزگار کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے، وہیں نئی ٹیکنالوجی ایک نئے شعبے میں بہتر تنخواہوں والی ملازمتوں کے دروازے بھی کھول رہی ہے۔

این ویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے لیے دنیا بھر میں بڑی تعداد میں ڈیٹا مراکز قائم کیے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ٹیکنالوجی کے علاوہ تعمیرات اور فنی شعبوں میں بھی روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔

جینسن ہوانگ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے پر سرمایہ کاری اس دہائی کے اختتام تک تقریباً سات کھرب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ ان منصوبوں کے لیے ہنرمند کاریگروں، بجلی کے ماہرین، پلمبروں، نگرانوں اور دیگر فنی کارکنوں کی شدید ضرورت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایسے ماہر کارکنوں کی قلت ہے جو مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا مراکز کی تعمیر اور دیکھ بھال کرسکیں۔ آنے والے برسوں میں ان شعبوں میں روزگار کی طلب مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

جینسن ہوانگ نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں اچھی آمدنی حاصل کرنے کے لیے ہر شخص کے لیے کمپیوٹر سائنس میں اعلیٰ ڈگری حاصل کرنا ضروری نہیں۔ ان کے مطابق فنی مہارت رکھنے والے افراد بھی مستقبل میں مضبوط اور محفوظ روزگار حاصل کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت صرف ٹیکنالوجی کے شعبے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات تعمیرات، بجلی، تنصیب اور دیکھ بھال جیسے شعبوں تک بھی پہنچیں گے۔ ماہر کارکن اس بدلتی ہوئی معیشت میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button