راہل گاندھی کا حد بندی بل پر حکومتی درخواست ماننے سے دوٹوک انکار
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں تعطل تیسرے ہفتے میں داخل ہو گیا ہے۔ اس سیاسی تعطل کو ختم کرنے کے لیے پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بدھ کے روز اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی سے ان کے چیمبر میں اہم ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق، حکومت کی جانب سے حد بندی بل اور خواتین کے ریزرویشن ترمیمی بل کی منظوری کے لیے تعاون مانگا گیا تھا جسے اپوزیشن لیڈر نے سختی سے مسترد کر دیا۔
راہل گاندھی نے حکومتی نمائندے پر واضح کر دیا کہ جب تک ایوان میں رام مندر کے مبینہ چندے کی چوری کے معاملے پر تفصیلی بحث نہیں ہوتی اور بیس جولائی کے طلباء کے احتجاج پر پولیس کی سخت کارروائی کے حوالے سے وزیر داخلہ امت شاہ اپنا بیان ریکارڈ نہیں کرواتے، اس وقت تک ایوان کی کوئی بھی کارروائی معمول کے مطابق نہیں چلنے دی جائے گی۔ راہل گاندھی سے ملاقات کی ناکامی کے بعد، کرن رجیجو نے فوری طور پر لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا اور وزیر داخلہ سے ملاقات کر کے آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا۔
بیس جولائی سے شروع ہونے والے اس اجلاس میں شور و غل کے دوران بغیر کسی بحث کے پانچ بل منظور کیے جا چکے ہیں۔ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے ہنگامہ آرائی کرنے والے اراکین کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کے اندر یا باہر پلے کارڈز لہرانا اور نعرے بازی کرنا جمہوریت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مسلسل ہنگامے کی وجہ سے اہم سوالات کا وقفہ متاثر ہو رہا ہے، جس سے ایوان کا وقار مجروح ہو رہا ہے۔ اپوزیشن تاہم اپنے مطالبات کی منظوری تک پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔



