بین الاقوامیعرب دنیا

سپریم کورٹ نے ٹرمپ کی 50 لاکھ ڈالر کی اپیل مسترد کردی

امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مصنفہ ای جین کیرول کے حق میں سنائے گئے 50 لاکھ ڈالر کے عدالتی فیصلے کو ختم کرنے کی درخواست ایک بار پھر مسترد کردی۔ جیوری نے قرار دیا تھا کہ ٹرمپ نے 1990 کی دہائی کے وسط میں نیویارک کے ایک بڑے اسٹور میں کیرول کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد میں ان کی بدنامی کی۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ

ٹرمپ کے وکلا نے سپریم کورٹ سے اس کے سابقہ فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی درخواست کی تھی، جس میں عدالت نے اپیل سننے سے انکار کردیا تھا۔ عدالت نے پیر کو ٹرمپ کی درخواست سمیت کئی دیگر درخواستیں بھی مسترد کردیں۔

ٹرمپ نے عدالت کی جانب سے اپیل نہ سننے کے فیصلے کے فوراً بعد 50 لاکھ ڈالر کی رقم ادا کردی تھی۔

دوسرا مقدمہ بھی زیرِ غور

ٹرمپ اور محکمہ انصاف نے کیرول کے حق میں سنائے گئے ایک دوسرے فیصلے کو بھی ختم کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ اس مقدمے میں مجموعی طور پر 8 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا فیصلہ سنایا گیا تھا۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 2019 میں کیرول کے بارے میں دیے گئے بیانات پر ٹرمپ کو قانونی کارروائی سے استثنیٰ حاصل تھا، کیونکہ اس وقت وہ صدر تھے۔ سپریم کورٹ نے اس اپیل پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں دیا۔

کیرول کا بیان

کیرول نے 2023 کے مقدمے کے دوران گواہی دی تھی کہ 1990 کی دہائی میں ایک دوستانہ ملاقات کے دوران ٹرمپ نے مین ہٹن میں واقع برگ ڈورف گڈمین کے ڈریسنگ روم میں ان پر حملہ کیا تھا۔ جیوری نے 2022 میں کیرول کے الزام کی تردید کرنے پر ٹرمپ کو ان کی بدنامی کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

ٹرمپ نے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔ کیرول ایک طویل عرصے تک مشوروں پر مبنی کالم لکھنے والی مصنفہ اور سابق ٹی وی میزبان رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button