امریکہ کی ایران کو نشانہ بنانے کے لیے نئے طریقوں کی تلاش
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی مرکزی کمان نے اپنے فوجی اہلکاروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایران پر دباؤ بڑھانے اور اس کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے نئے، غیر روایتی اور مؤثر طریقوں پر تجاویز پیش کریں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایران کو بڑے فوجی حملے کی سخت وارننگ دی تھی، تاہم بعد میں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی سفارتی کوششوں کے بعد ممکنہ حملہ مؤخر کر دیا گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو معاہدے کے لیے آخری موقع دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو امریکہ ایسی کارروائی کر سکتا ہے جس کی شدت ماضی کی بڑی جنگوں سے بھی زیادہ ہوگی۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور خود ایران کی درخواست پر سفارتی راستہ اختیار کرتے ہوئے فوجی کارروائی فی الحال روک دی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور اگر یہ موقع ضائع ہوا تو تہران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ادھر ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کی علی الصبح کویت اور عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون حملے کیے گئے۔ اس پیش رفت کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری دونوں ممالک پر تحمل اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل پر زور دے رہی ہے۔



