علاقائی خبریںقومی

سماجی رابطہ ذرائع پر شکنجہ، پارلیمانی کمیٹی نے بڑی کمپنیوں کو طلب کر لیا

پارلیمانی قائمہ کمیٹی نے سماجی رابطہ ذرائع اور ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے ضابطوں پر غور کے لیے اہم اجلاس طلب کر لیا ہے۔ اجلاس تین اگست کو منعقد ہوگا، جس میں مختلف بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نمائندوں کے ساتھ الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت اور وزارت داخلہ کے اعلیٰ حکام بھی شریک ہوں گے۔

پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے سربراہ نشیکانت دوبے نے بتایا کہ اجلاس میں بڑی کمپنیوں سے یہ وضاحت طلب کی جائے گی کہ وہ خواتین، بچوں، کسانوں، دیہی آبادی، مزدوروں اور عام شہریوں کی رازداری کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی جانا جائے گا کہ یہ پلیٹ فارم امن و امان برقرار رکھنے میں حکومت کے ساتھ کس حد تک تعاون کرتے ہیں۔

یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب حالیہ دنوں میں طلبہ احتجاج کے دوران سماجی رابطے کے ذرائع کا بڑے پیمانے پر استعمال دیکھنے میں آیا۔ احتجاج سے متعلق ویڈیوز، مختصر ویڈیوز اور براہِ راست مناظر نے عوامی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی اور بڑی تعداد میں لوگوں تک معلومات پہنچیں۔

واضح رہے کہ چھتیس روزہ طلبہ تحریک حکومت کی جانب سے اہم مطالبات تسلیم کیے جانے اور سابق وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کے استعفے کے بعد اختتام پذیر ہوئی۔ اس کے بعد حکومت نے ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے کردار اور ان کی ذمہ داریوں پر مزید سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔

کمیٹی کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کے حکام مختلف سماجی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے نمائندوں کو موجودہ قوانین، عوامی سلامتی، رازداری کے تحفظ اور ضابطہ کار پر تفصیلی بریفنگ دیں گے۔

نشیکانت دوبے نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم عوامی مفادات، صارفین کے حقوق اور ملکی قوانین کے مطابق اپنی ذمہ داریاں کس طرح ادا کر رہے ہیں، تاکہ مستقبل میں ایک محفوظ اور ذمہ دار آن لائن ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button