پیپر لیک پر قانون ناکام، نیا بل بھی مسئلہ حل نہیں کرے گا گورو گوگوئی
کانگریس نے عوامی امتحانات میں پیپر لیک روکنے کے لیے پیش کیے گئے ترمیمی بل پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو ہزار چوبیس میں قانون نافذ ہونے کے باوجود سوالیہ پرچوں کا افشا نہیں رکا، اس لیے نیا بل بھی مؤثر ثابت نہیں ہوگا۔ لوک سبھا میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے کانگریس کے نائب قائد گورو گوگوئی نے کہا کہ امتحانی بے ضابطگیوں نے لاکھوں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے اور حکومت کو طلبہ کے درد کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیٹ امتحان میں بے ضابطگیوں کے بعد طلبہ کو سڑکوں پر احتجاج کرنا پڑا، مگر حکومت نے بنیادی وجوہات ختم کرنے کے بجائے صرف قوانین میں تبدیلی کو حل قرار دیا۔ ان کے مطابق دو سال قبل بھی حکومت نے اسی قانون کو تاریخی اقدام قرار دیا تھا، لیکن دو ہزار چھبیس میں دوبارہ پیپر لیک ہونے سے ثابت ہوگیا کہ قانون ناکام رہا۔
گورو گوگوئی نے احتجاجی طلبہ پر ربڑ کی گولیوں اور برقی لاٹھیوں کے استعمال پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ خواتین مظاہرین کے ساتھ پولیس کا رویہ ان کی عزت و وقار کے منافی تھا۔
انہوں نے سابق مرکزی وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کے استعفے کے بعد پارلیمنٹ میں ان کے استقبال پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اپنی ناکامی پر جواب دینا چاہیے، نہ کہ ذمہ دار افراد کی تعریف کرنی چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ قومی جانچ ایجنسی سے ہٹائے گئے یا تبدیل کیے گئے سینتالیس اہلکاروں کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں تاکہ شفافیت برقرار رہے اور ذمہ داروں کا تعین ہو سکے۔



