بین الاقوامیعرب دنیا

فرانس اور اسپین میں خوفناک جنگلاتی آگ، لاکھوں افراد بے گھر

فرانس اور اسپین کی سرحدی جنگلات میں بھڑکنے والی خوفناک آگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ اب تک فرانس میں چار سو بیس مربع کلومیٹر سے زائد رقبہ جبکہ اسپین میں ایک لاکھ پچیس ہزار ایکڑ سے زیادہ جنگلات جل کر خاکستر ہو چکے ہیں۔ جیروند کے علاقے میں کروڑوں مالیت کے دو سو چالیس سے زائد عالی شان مکانات بھی آگ کی لپیٹ میں آ کر مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔

یورپی یونین کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ فرانس میں لگی یہ شدید آگ نومبر کے پہلے ہفتے تک جاری رہ سکتی ہے۔ ان کے مطابق رواں سال یورپ میں جنگلاتی آگ کے حوالے سے سب سے زیادہ تباہ کن برسوں میں شامل ہونے کا خدشہ ہے۔ حکام نے بتایا کہ اس ہفتے درجہ حرارت میں دوبارہ اضافے کے باعث فرانس، اسپین اور یونان میں مزید جنگلاتی آگ بھڑکنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

جمعہ کی شام سرحدی علاقوں میں شروع ہونے والی آگ تیزی سے کئی شہروں تک پھیل گئی، جس سے دھوئیں کے گھنے بادل پورے علاقے پر چھا گئے ہیں۔ دھواں بڑھنے کے باعث امدادی کارروائیاں بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ یورپی کمیشن کے تعاون سے فرانس کے لیے سات آگ بجھانے والے طیارے اور چار ہیلی کاپٹر جبکہ اسپین کے لیے چھ طیارے اور تین امدادی ٹیمیں روانہ کی گئی ہیں۔

سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ تیز ہواؤں، گرج چمک اور آسمانی بجلی کے باعث یہ آگ آتشی بگولوں کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس سے نقصان میں مزید اضافہ ہونے کا اندیشہ ہے۔

تیزی سے پھیلتی آگ کے باعث فرانس میں تقریباً دو لاکھ اور اسپین میں ایک لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جنگلی جانوروں کی سڑکوں پر بھاگتے ہوئے تصاویر اور ویڈیوز تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جبکہ کئی شہری اپنے پالتو جانوروں کو بھی گھروں سے باہر نکالنے پر مجبور ہیں۔

فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے عوام سے اپیل کی ہے کہ آئندہ دو ہفتوں میں مکمل تعاون کریں کیونکہ حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ہزاروں اہلکار اور سیکڑوں ہیلی کاپٹر آگ بجھانے میں مصروف ہیں، جبکہ ملک کے متعدد علاقوں میں فضائی آلودگی بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button