بین الاقوامیعرب دنیا

ٹرمپ سے اختلاف کے بعد جینین پیرو کا سیاسی مستقبل غیر یقینی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی اٹارنی جینین پیرو کے درمیان ریفلیکٹنگ پول مقدمے پر اختلافات نے واشنگٹن کی سیاسی فضا میں ہلچل مچا دی ہے۔ برسوں سے قریبی تعلقات رکھنے والی جینین پیرو کی آئندہ حیثیت پر اب سوالات اٹھنے لگے ہیں، جبکہ مبصرین اسے ٹرمپ انتظامیہ کے اندر ایک اہم تنازع قرار دے رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق جینین پیرو پیر کی شام وائٹ ہاؤس پہنچیں، تاہم اس سے چند گھنٹے قبل صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان پر سخت تنقید کی تھی۔ ٹرمپ نے کہا کہ جینین پیرو نے مقدمہ واپس لے کر "چھتری کی طرح ہتھیار ڈال دیے” اور وہ جج کے سخت رویے کے سامنے ڈٹ نہ سکیں۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ جج نے اصل ذمہ داروں کے بجائے جینین پیرو اور ان کے محکمے کو نشانہ بنایا، جس کے باعث وہ دباؤ کا شکار ہو گئیں۔ وائٹ ہاؤس نے جینین پیرو کے دورے پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا۔

یاد رہے کہ محکمہ انصاف نے مقدمہ واپس لیتے ہوئے کہا تھا کہ نقصان کسی تخریب کاری کے باعث نہیں بلکہ جلد بازی اور ناقص تنصیب کی وجہ سے ہوا۔ استغاثہ نے اس منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی اور متعلقہ سرکاری ادارے کی ابتدائی رپورٹ کو بھی ناکافی قرار دیا۔

دوسری جانب وزیر داخلہ ڈگ برگم نے بھی اس فیصلے سے اختلاف کیا، جبکہ صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ اصل نقصان شرپسند عناصر نے پہنچایا تھا۔

ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ جینین پیرو کے عہدے پر نظرثانی پر غور کر سکتے ہیں، اگرچہ انہوں نے اس بارے میں کوئی حتمی اعلان نہیں کیا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ماضی میں بھی اپنی پالیسی سے اختلاف کرنے والے کئی قریبی ساتھیوں کو عہدوں سے ہٹا چکے ہیں، جس کے باعث جینین پیرو کا مستقبل غیر یقینی دکھائی دے رہا ہے۔

واضح رہے کہ جینین پیرو کو دو ہزار پچیس میں وفاقی دارالحکومت کی عبوری امریکی اٹارنی مقرر کیا گیا تھا اور بعد میں سینیٹ نے ان کی توثیق بھی کر دی تھی۔ اب ان کے مستقبل سے متعلق قیاس آرائیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button